خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 503 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 503

خطبات طاہر جلد ۸ 503 خطبہ جمعہ ۲۸ جولائی ۱۹۸۹ء جو حالات بعد میں سامنے آئے مزید ان سے پتا چلتا ہے جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا کہ مرکزی حکومت کا اس میں دخل نہیں ہے بلکہ خالصہ پنجاب کی مسلم لیگ کی حکومت کا جماعت اسلامی کے ساتھ جوڑ ہوا ہے اور ان دونوں نے یہ سازش پکائی ہے با قاعد حکومت کی سطح پر اور اس ظلم میں ڈی سی اور ایس پی پوری طرح شامل تھے اور مقامی ممبر پارلیمنٹ پنجاب کا وہ ان کو ہدا یتیں دے رہا تھا اور پنجاب کی حکومت کے احکامات ان تک منتقل کر رہا تھا۔اس سے پتا چلتا ہے کہ مسلم لیگ نے اس بات کو دہرایا ہے اور ۱۹۵۳ء میں بھی وہی ذمہ دار تھی۔ایک لمبا عرصہ قریباً چھتیس سال خدا تعالیٰ نے اس جرم میں ان کو ذلیل و رسوا کیا اور اتنی بڑی پارٹی جو پاکستان کے قیام کا موجب بنی جس نے سارے ہندوستان میں مخالفت پر فتح پائی۔ہندوؤں اور سکھوں کی عظیم طاقت کو تو ڑ کر پاکستان بنانے میں کامیاب ہوئی۔احمدیت پر مظالم کے نتیجے میں ایسی ذلیل و رسوا ہوئی کہ یوں لگتا تھا کہ سیاست سے اس کی ہمیشہ کے لئے صف لپیٹ دی گئی ہو لیکن جیسا کہ قرآن کی پیشگوئی سے پتا چلتا تھا ان کو دوبارہ موقع ضرور ملنا تھا اور دوبارہ انہوں نے آزمائے جانا تھا اور اس آزمائش پر یہ پورے نہیں اترے اور وہی جہالت ، وہی سفا کی ، وہی بے حیائی انہوں نے دوبارہ ظاہر کی جو اس سے پہلے ایک دفعہ کر چکے تھے اور عجیب اتفاق ہے کہ اس وقت بھی جماعت اسلامی ان کے ساتھ تھی۔یعنی نام نہاد جماعت اسلامی جس کا اسلام سے کوئی دور کا بھی تعلق نہیں اور اب بھی وہی ہے ان کا کرتا دھرتا اور ان کی مشیر۔تو حالات بعینہ اسی طرح دوبارہ ظاہر ہوئے ہیں۔ایک اور چیز جو میں نے بیان کی تھی اس میں بھی درستی ضروری ہے۔مجھے اس وقت یہ خیال آیا تھا کہ چونکہ یہ عید کے موقع پر واقعہ ہوا ہے اور قربانی کی عید کے موقع پر ہوا ہے اور کیونکہ وہ عید اس دن واقع ہوئی جس دن حضرت صاحبزادہ عبد الطیف صاحب کی عظیم شہادت واقعہ ہوئی اس لئے اس میں خدا کی طرف سے جماعت کو کوئی پیغام تھا کہ تمہارے لئے ابھی قربانیوں کا دور باقی ہے اور ان قربانیوں کا بدلہ ہم دیں گے تمہیں جزا کی صورت میں اور تمہارے دشمنوں کو سزا کی صورت میں کیونکہ صاحبزادہ عبدالطیف صاحب کو شہید کرنے والوں پر خدا تعالیٰ نے پھر اپنی پکڑ ڈھیلی نہیں کی فوراً بعد بھی ان کو عذاب میں مبتلا کیا اور آج تک جو افغانستان میں گزر رہا ہے یہ ساری ان کی وہی بد بختی ہے کہ ایک عظیم الشان معصوم کو انہوں نے شہید کیا تھا۔