خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 502 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 502

خطبات طاہر جلد ۸ ہو رہا تھا۔502 خطبہ جمعہ ۲۸ جولائی ۱۹۸۹ء دوسرا پہلو یہ کہ سفا کی کہ حد یہ ہے کہ بڑے سے بڑے مظالم میں بھی جانوروں کو نہیں مارا جاتا لیکن انہوں نے چن چن کے احمدی جانوروں کو مارا اور پھر ان کو آگیں لگائیں اور ان کے پنجر ہمارے جو نمائندگان تھے پر لیس کے انہوں نے جا کر دیکھے اور انہوں نے تصویر میں شائع کی ہیں۔تو جو سفا کی کی حد ہوتی ہے وہ اس تک پہنچ چکے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو نقشہ کھینچا تھا کہ ایک جاہل وحشی قوم ہے جو میرے باغ پر حملہ کر رہی ہے، اس کو اجاڑنے کی کوشش کر رہی ہے وہ تصویر بعینہ ان حالات پر صادق آتی ہے۔اس لئے جو خدائی نصرت کے وعدے ہیں اور خدا تعالیٰ کی طرف سے قرآن کریم میں خبر تھی کہ میں انتقام لوں گا اس کے پورا ہونے کے متعلق کوئی احمدی واہمہ بھی نہیں کر سکتا کہ نہیں ہوگا۔کوئی دور کا بھی شک نہیں کیا جا سکتا کیونکہ چودہ سو سال پہلے جو کلام نازل ہوا ہے حضرت محمد مصطفی می پر اس نے جو نقشہ کھینچے ہیں بعینہ ہم نے اپنی آنکھوں کے سامنے ان کو پورا ہوتے دیکھ لیا ہے۔صرف اب ہم نہیں کہہ رہے جب یہ حالات گزر چکے ہیں بلکہ ۱۹۴۵ء میں حضرت مصلح موعودؓ نے قرآن کریم کی اسی سورۃ کی تفسیر کرتے ہوئے لکھا کہ آج تک امت مسلمہ میں یہ واقعات نہیں گزرے اور یہ قرآن کریم کی دراصل پیشگوئی ہے اور یہ پیشگوئی جماعت احمدیہ کے اوپر پوری ہونے والی اور جماعت احمدیہ کے گھر جلائے جائیں گے، ان کے سامان جلائے جائیں گے اور دشمن بیٹھ کر تماشے دیکھیں گے اور جب یہ اس فعل کو دہرائیں گے تب خدا کی پکڑ ان پر نازل ہوگی۔اس لئے کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ جب واقعہ ہو گیا تو تم نے اپنی طرف منسوب کر لیا۔۱۹۴۵ء میں اس کا وہم و گمان بھی نہیں تھا جماعت کو اور حکومت بھی اس وقت غیر جانبدار حکومت تھی اور جو مرضی انگریز کو کہیں اس میں انصاف ضرور تھا۔ان حالات میں حضرت مصلح موعود کا قرآن کی تفسیر کر کے اتنی وضاحت کے ساتھ آئندہ زمانے کے متعلق یہ بیان کرنا آپ وہ تفسیر پڑھیں تو آپ حیران رہ جائیں۔یوں لگتا ہے جو حالات گزرے۱۹۵۳ء میں یا بعد میں۔اب وہ حضرت مصلح موعودؓ کے سامنے فلم کی صورت میں چل رہے تھے اور تفسیر صرف قرآن کریم کی اس سورۃ کی کر رہے تھے جس کی میں نے پچھلے جمعہ میں تلاوت کی تھی۔