خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 501
خطبات طاہر جلد ۸ 501 خطبہ جمعہ ۲۸ / جولائی ۱۹۸۹ء کہ موجودہ حالات میں وہی دونوں جماعتیں اس وقت حکومت میں ہیں۔سب سے پہلے مسلم لیگ جس نے پنجاب میں ۱۹۵۳ء میں یہ مظالم کا دور شروع کیا اور با قاعدہ مولویوں کی سر پرستی کر کے کثرت کے ساتھ احمدی گھروں کو جلایا گیا اور ہر طرح سے ان کو عذاب دینے کی کوشش کی گئی۔دوسرا پیپلز پارٹی جس نے باوجود اس کے کہ جماعت کے اس پارٹی پر بے انتہا احسانات تھے احسان فراموشی کا ایک تاریخی مظاہرہ کیا اور ۱۹۷۴ء میں اسی پارٹی کی حکومت میں سرگودھا کے کثرت سے گھر جلائے گئے اور اس وقت پنجاب کی حکومت پیپلز پارٹی کی حکومت تھی۔تو میں نے کہا یہ پچھلے خطبہ میں جو باتیں بیان کیں ان میں ایک یہ بھی بات تھی۔یہ اتفاقی حادثات نہیں ہیں۔قرآن کریم کی آیات ان حالات پر بعینم چسپاں ہو رہی ہیں۔کوئی ایسی جماعتوں کا ذکر ہے جو ایک دفعہ جماعت کے گھر جلائیں گی اور پھر دوبارہ طاقت پکڑیں گی اور دوبارہ وہی کام کریں گی اور ان کے لئے شدت سے عذاب کی خبر ہے۔اس وقت مجھے چونکہ پورے حالات کا علم نہیں تھا اس لئے میں نے کہا کہ ہو سکتا ہے پیپلز پارٹی بھی ملوث ہو اس کی مرکزی حکومت کیونکہ آئی جی پولیس ان کا مقرر کردہ ہے۔اور چونکہ جماعت چک سکندر پہ مظالم میں سب سے بڑا دخل پولیس کا تھا جب تک پولیس نہیں آئی ہماری احمدی عورتوں نے دشمن کے چھکے چھڑائے ہوئے تھے اور بڑا بھاری دباؤ تھا ان پر۔ان کو جرات نہیں تھی کہ گھروں کے قریب آسکیں اور صرف احمدی عورتیں مقابلہ کر رہی تھیں چند ایک نوجوان تھے باقی چونکہ بوڑھے اور کمزور لوگ ہیں اکثر نو جوان ہجرت کر چکے ہیں اس لئے مقابلہ ان بظاہر مردوں کا چند عورتوں کے ساتھ تھا لیکن پولیس نے آکر پھر خود تمام احمدیوں کو نہتا کیا۔آٹھ زخمی عورتیں تھیں ان کو قید کیا گیا اور باقی احمد یوں کو بھی قید کر کے صرف چند ایسے لوگ پیچھے چھوڑ دئے گئے جو کسی طرح بھی مقابلہ نہیں کر سکتے تھے۔پھر دشمن کو دعوت دی کہ جو کچھ ظلم کرنا ہے کرو اور ظلم اور سفا کی کی حد یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے جہاد کے موقع پر بھی جہاں جائز دفاع ہے جو ہدایات دی ہیں ان میں سے ہر ایک کی نافرمانی کی گئی بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ گئے۔آپ نے فرمایا عورتوں پر ہاتھ نہیں اٹھانا، بچوں پر ہاتھ نہیں اٹھانا، کمزوروں اور بوڑھوں کو کچھ نہیں کہنا اور وہاں بظاہر یہ اسلامی جہاد کرنے والوں کا حملہ عورتوں، بوڑھوں اور بچوں پر تھا اور بچی بھی ایک شہید ہوئی اور مرد بھی بعض شہید ہوئے لیکن اصل مقابلہ احمدی بوڑھوں ، بچوں اور عورتوں کا تھا جو ان کے مرد کہلانے والوں سے الله