خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 494 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 494

خطبات طاہر جلد ۸ 494 خطبہ جمعہ ۲۱؍ جولائی ۱۹۸۹ء فسادات میں ملوث ہو چکی ہیں۔اب سوال یہ ہے کہ دونوں میں سے وہ کون ہے جو اس کا ذمہ دار ہے۔بظاہر تو پنجاب معلوم ہوتا ہے کیونکہ پنجاب کی انتظامیہ کی تفاصیل میں مرکز دخل نہیں دیا کرتا اور چونکہ پنجاب اور مرکز کی آپس میں دشمنی بڑی نمایاں ہو چکی ہے اس لئے غالباً پنجاب کی حکومت یہ پسند نہیں کرتی یا نہیں کرے گی کہ مرکز براہ راست ان کے اضلاع میں دخل دے۔اس پہلو سے جو غالب احتمال ہے کہ یہ ذمہ داری پنجاب کی ہے لیکن ایک اور پہلو سے بھی مرکز کو بھی کلیہ بری الذمہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔کیونکہ جو آئی جی پولیس پنجاب میں مقرر ہے یہ مرکز کا نمائندہ ہے۔مرکز نے اس کو اپنی پسند کے مطابق مقرر کیا ہے اور یہ بات بعید از عقل معلوم ہوتی ہے کہ ایک مرتبہ نہیں دو مرتبہ پولیس انتہائی بہیمانہ کارروائی کرے اور شہریوں کے حقوق بچانے کی بجائے اپنی نگرانی میں ان کو نہا کر کے ان کے گھر جلوائے اور آئی جی پولیس کو اس کی کوئی خبر نہ ہو اور آئی جی پولیس اس میں بالکل بے عمل اور بے دخل ہو۔اس وجہ سے امر واقعہ یہ ہے کہ دونوں پر ذمہ داری پڑنے کے امکانات برابر ہیں یا کم و بیش دونوں کے امکانات موجود ہیں۔خواہ پنجاب کے امکانات نسبتاً زیادہ ہوں۔اس لئے ہماری آخری بات یہی ہے کہ وَاللهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ اللہ ہی ہے جو بہتر جانتا ہے کہ کون کس حد تک اس سفا کی اور اس ظلم کا مرتکب ہے اور اس میں ملوث ہے اور کس حد تک خدا کے عذاب کا سزاوار ہے۔جہاں تک مولویوں کی ذمہ داری کا تعلق ہے وہ تو ظاہر ہے۔ملاں جب بگڑ جائے تو شرارت میں حد سے بڑھ جایا کرتا ہے۔اسی لئے آنحضرت ﷺ نے آئندہ زمانے کے حالات کی جو پیشگوئیاں فرمائیں ان میں سب سے خطر ناک پیش گوئی یہ تھی کہ اس زمانے کا مولوی آسمان کے نیچے بدترین مخلوق ہوگا۔شر من تحت اديم السماء (مشكوة كتاب العلم والفضل صفحہ نمبر ۳۸) کا مطلب ہے بدترین مخلوق یا شریرترین مخلوق۔اس کے شر سے دنیا میں کوئی بچ نہیں سکے گے۔اس لئے جو مقدر ملاں کا ہے وہ تو ہے ہی لیکن ملاں تنہا کافی نہیں ہے۔ملاں ایک ایسی قوم ہے جو بنیادی طور پر بزدل ہے اور بیچارے معصوم سادہ لوح عوام الناس کو بھڑکا کر ہمیشہ خطروں میں دھکیل دینے والی قوم ہے اور خود پیچھے رہتی ہے۔اسی طرح ملاں کا کردار عام معروف اور معلوم ہے کہ جب تک حکومت کی یا کسی طاقت کی سر پرستی نہ حاصل ہو، جب تک کسی جگہ سے کوئی پیسہ نہ ملتا ہو اس وقت تک یہ عملاً بیکار اور بے