خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 470
خطبات طاہر جلد ۸ 470 خطبہ جمعہ ے جولائی ۱۹۸۹ء ملتے ہیں۔جس کا مطلب ہے اگر انتظار کیا تو دس سال میں اڑھائی لاکھ اور سوسال میں چھپیں لاکھ۔یہ تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔سو سال میں جو پچھپیں لاکھ ملیں گے آپ کو اس وقت تک تعمیر کا خرچ ایک کروڑ ہو چکا ہو گا۔جہاں تک سود لے کر اس رقم کو ضرورت کو پورا کرنے کا تعلق ہے میں اس کا قائل ہی نہیں کہ مسجد کے لئے سودی روپے لئے جائیں۔یہاں شروع ہو گئی تھی رسم ، کینیڈا میں بھی یہی رسم چلی تھی اور جماعت قرضوں کے اندر دب رہی تھی اور کوئی بھی برکت نہیں رہی تھی۔ان کو میں نے سختی سے روکا اور فوری طور پر ان کے قرضے ادا کئے اور کہا آئندہ آپ نے ایک آنہ بھی سود پر نہیں لینا جو توفیق ہے اس کے مطابق آپ مسجد میں بنائیں۔چنانچہ اللہ کے فضل سے اتنی بڑی بڑی زمینیں وہاں خدا نے عطا کی ہیں، ایسے ایسے شاندار مراکز عطا کئے کہ دل ان کو دیکھ کر جذ بہ تشکر سے بھر جاتا ہے۔ابھی کیلگری سے میں آیا ہوں وہاں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک بہت ہی خوبصورت مسجد خدا نے بنادی یعنی بنا ان معنوں میں دی کہ ایک چرچ تھا جو اس موقع پر بک رہا تھا اور اس چرچ کا رخ قبلہ کے طرف ہی تھا یعنی اس میں کسی تبدیلی کی ضرورت نہیں تھی۔صرف شرط میں نے یہ قائم کی تھی کہ جب تک چرچ کے مالک تحریری طور پر یہ نہ لکھ کے دیں کہ ہم بخوشی اجازت دیتے ہیں کہ آپ اس کو مسجد میں تبدیل کریں اس وقت تک ہم اس چرچ کو نہیں خریدیں گے کیونکہ میں ہر گز پسند نہیں کرتا کہ کسی کی عبادتگاہ کو اس کی مرضی کے خلاف کسی اور عبادت گاہ میں تبدیل کیا جائے۔انہوں نے بخوشی یہ لکھ کر دے دیا تو اب وہ بنی بنائی مسجد ہمیں مل گئی۔پھر اس کے ساتھ ایک بڑی وسیع زمین بھی خدا نے دی ہے۔تو میں چاہتا ہوں کہ امریکہ میں بھی آپ ان باتوں میں اس طرف سوچیں بھی نہیں کہ سود پہ قرضے لے کر آپ خدا کے گھر بنائیں اس میں ایک بڑا تضاد ہے۔سوچنا چاہئے کہ قرآن کریم کہتا ہے کہ پہلی اینٹ جو خدا کے گھر کے لئے رکھی جائے وہ تقویٰ کی اینٹ ہونی چاہئے اور اس اینٹ سے پہلے آپ سود کی اینٹ رکھ چکے ہوں گے اس کے نیچے۔سود کی اینٹ پر تقویٰ کی اینٹ کیسے قائم ہوسکتی ہے۔اس لئے اس بات کو آپ بالکل بھول جائیں کہ سودی روپے لے لے کر آپ مساجد تعمیر کریں گے۔اگر بڑی شاندار مسجد نہیں بن سکتی تو جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے سادہ بنالیں بعد میں توفیق ملے تو بنا لیں لیکن کوشش ضرور کریں کہ اچھی کھلی مسجد بنے اور اس لحاظ سے ضرور دیدہ زیب ہو کہ غیروں کی