خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 463
خطبات طاہر جلد ۸ 463 خطبہ جمعہ ے جولائی ۱۹۸۹ء اثر ہوگایا نعوذ بالله من ذالک یہاں نماز ٹھیک نہیں ہوسکتی۔یہ جاہلانہ خیال ہے۔قرآن کریم فرماتا ہے: أَنَّ الْمَسْجِدَ لِلهِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللهِ أَحَدًا (الجن:۱۹) کہ سب مسجدیں خدا کے لئے بنائی جاتی ہیں۔کسی کی بھی مسجد ہوا اگر وہاں تمہیں عبادت کی توفیق ملتی ہے تو اللہ کو پکار واور اس کے سوا کسی اور کونہ پکاروبس یہ شرط ہے۔اس لئے جہاں تک جماعت کا تعلق ہے ہم نے کبھی بھی دوسروں کی بنائی ہوئی مسجدوں سے غیریت نہیں کی لیکن وہ مساجد جو خالصۂ دکھاوے کے لئے بنائی جائیں ان میں نماز پڑھنے کے لئے طبیعت مائل نہیں ہوتی اور یہی مضمون قرآن کریم میں مسجد ضرار سے متعلق بیان ہوا ہے۔مسجد ضرار بنائی گئی جو خدا کی خاطر نہیں تھی بلکہ کسی اور فساد کی نیت سے اور دکھاوا دے کر مومنوں کو دھوکا دینے کے لئے بنائی گئی تھی۔آنحضرت ﷺ سے جب بار بار ان لوگوں نے درخواست کی کہ آپ آکر ہماری مسجد میں نماز پڑھیں جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے کہ دستور تھا تو آپ کے دل میں تردد تھا لیکن بار بار ٹالتے رہے لیکن آنحضرت ﷺ کے مزاج میں بے حد حیا تھی اور بعض دفعہ یہ بار بار کی درخواست کے اثر سے آپ قبول فرمالیا کرتے تھے خواہ دل میں تردد بھی ہو۔قرآن کریم میں آپ کی اس حیا کا بھی ذکر ملتا صلى الله ہے کہ مومن جب تمہیں دعوت پر بلاتے ہیں تم کھانا کھا کر فارغ ہو کر چلے جایا کرو آنحضرت ﷺ کو عادت تھی کہ کھانے سے فارغ ہو کر عبادت میں مصروف ہوا کرتے تھے اور قرآن کریم فرماتا ہے کہ حیا کی وجہ سے تمہیں کہہ نہیں سکتے تو بہت سی باتیں ایسی ہیں جن میں حیا مانع ہو جایا کرتی تھی۔انسان ایک چیز کو بعض دفعہ نا پسند کرتا ہے۔ناپسندیدگی کا اظہار حیا کی وجہ سے نہیں کر سکتا۔بعض دفعہ حیا کی وجہ سے پسندیدگی کا اظہار بھی نہیں کر سکتا۔تو اس لئے حضور اکرم ﷺ نے بالآخر اس کو قبول فرمالیا حالانکہ آپ کی فراست آپ کو بتا رہی تھی کہ یہ مسجد اس لائق نہیں ہے کہ آپ اس میں جا کر نماز پڑھیں۔خدا نے بعد میں منع فرمایا لیکن یہ الگ بات ہے۔میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ بعض مساجد سے جہاں منافقت کی بوہو، جہاں ریا کی بو ہو وہاں اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسانی فطرت میں ایک تردد پیدا ہو جاتا ہے اور ایک کراہت پیدا ہو جاتی ہے یہ ایک الگ مضمون ہے لیکن ہرگز یہ مراد نہیں کہ مسجد کو دیکھ کر پہلے یہ سوچا جائے کہ کس فرقے نے بنائی ہے۔آنحضرت ﷺ کا اسوہ حسنہ تو یہ ہے کہ عیسائی وفد آپ کے پاس ملنے کے لئے حاضر ہوا اور