خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 449
خطبات طاہر جلد ۸ 449 خطبه جمعه ۳۰ / جون ۱۹۸۹ء یہ مضمون میں آپ کو ایک خاص مقصد کی خاطر آپ کو بتا رہا ہوں اور وہ مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نیک بندے جب خدا کی خاطر ا کٹھے ہوتے ہیں، اجتماعی منصوبے کرتے ہیں یاذ کر الہی کرتے ہیں تو ان کے اندر کچھ اجتماعی برکت کی طاقتیں پیدا ہوتی ہیں جو محض لوگوں کو بتانے سے، لوگوں کے علم میں نہیں آتیں بلکہ وہ برکتیں ان کے ماحول میں سرایت کرتی ہیں۔ان کا ماحول ان کی برکتوں سے فائدہ اٹھاتا ہے اس پہلو سے بھی وہ مفید وجود بن جاتے ہیں جن کا ذکر قرآن کریم کی اس آیت میں ملتا ہے کہ كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ ( آل عمران : 1) تم دنیا کی بہترین امت ہو جو بنی نوع انسان کے فائدہ کے لئے پیدا کی گئی۔پس اس مشن میں آپ کا اکٹھا ہونا کچھ تو خود آپ کے لئے برکت کا موجب ہوگا کیونکہ یہاں اکٹھے ہوں گے خدا کے ذکر کے لئے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ رحمتیں جذب کرنے والے ہوں گے، ایک دوسرے کے تقویٰ سے آپ کے اندر ایک نئی قوت پیدا ہوگی ، ایک اجتماعی طاقت آپ کے اندر اُبھرے گی جو پہلے انفرادی زندگی کی حیثیت میں آپ نے محسوس نہیں کی ہوگی اور یہ امر واقعہ ہے ساری دنیا میں جہاں بھی جماعت کو مساجد بنانے کی توفیق ملتی ہے اور مشن ہاؤس بنانے کی توفیق ملتی ہے وہاں اکٹھے ہونے کی برکت سے جماعتوں کے اندر ایک نئی زندگی اور نئی روح پیدا ہو جاتی ہے۔یہ کوئی فرضی بات نہیں ہے بلکہ امر واقعہ ہے ان برکتوں کا ہم نے مشاہدہ کیا۔لیکن جو دوسرا پہلو ہے وہ یہ ہے کہ آپ کے یہاں اکٹھے ہونے کے نتیجے میں آپ کی برکت سے آپ کے ہمسایوں کو بھی حصہ ملنا چاہئے۔آپ کی برکت سے آپ کے شہر کو بھی حصہ ملنا چاہئے ، آپ کی برکت سے اُس سارے ماحول کو حصہ ملنا چاہئے جو ماحول آپ کے ساتھ رابطہ پیدا کرتا ہے یا آپ جس ماحول سے رابطہ پیدا کرتے ہیں۔اس ضمن میں ہماری وہ جماعتیں جو کینیڈا میں موجود ہیں یا امریکہ کے بعض اور علاقوں میں موجود ہیں انہوں نے عملاً اس بات کو ثابت کیا ہے کہ یہ کوئی فرضی بات نہیں ہے واقعہ تھوڑوں کے فیض سے بعض دفعہ بڑی تعداد کے لوگ فیض پایا کرتے ہیں۔چنانچہ حال ہی میں جو کینیڈا کا دورہ کرنے کی مجھے توفیق ملی ، مجھے دیکھ کر تعجب ہوا کہ بعض جگہوں میں جماعت کی تعداد شہر کی تعداد کے مقابل پر اتنی تھوڑی ہے کہ کسی ذکر اور شمار میں اس کا لانا ہی ممکن نہیں۔دو یا تین گھروں کی ایک جماعت لاکھ سے زائد آبادی میں بس رہی ہے اور اس آبادی کے تمام معززین اس بات پر گواہ ہیں کہ