خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 448 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 448

خطبات طاہر جلد ۸ 448 خطبه جمعه ۳۰ / جون ۱۹۸۹ء باتوں پر مامور ہیں۔کیا مراد ہے ان فرشتوں سے ہم اس کی تفصیل نہیں جانتے لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ قانون قدرت کے پیچھے کچھ تو تیں کارفرما ہیں اور ان کے سپر د بعض دائرے ہیں جن میں وہ اپنا کام ادا کرتے ہیں۔پس اپنے اپنے دائرہ کار سے تعلق رکھنے والے فرشتوں میں سے کچھ ایسے فرشتے بھی ہیں جو خدا کے ان بندوں پر نظر رکھتے ہیں جن کے دل اللہ تعالیٰ کی محبت سے مامور ہوں اور جو ذکر الہی کے لئے اکٹھے ہوں۔حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے ہمیں خبر دی اور یہ وہ خبر ہے جو خدا نے آپ کو دی کہ ایک موقع پر ایسے ہی کچھ خدا کے درویش بندے اس سے محبت کرنے والے اکٹھے ہوئے اور وہ فرشتے جو ان باتوں پر مامور ہیں انہوں نے اللہ تعالیٰ سے ان کا ذکر کیا۔اب یہ بھی ایک روحانی تمثیل ہے ورنہ خدا تعالیٰ تو عالم الغیب والشہادہ ہے۔فرشتوں کو کچھ بھی علم نہیں سوائے اس کے کہ خدا ان کو عطا کرے۔پس یہ نہ سمجھیں کہ گویا خدا اس علم کا محتاج ہے بلکہ اس قسم کی باتیں اس لئے بیان کی جاتی ہیں تا کہ بعض عارفانہ باتوں پر مومن کی نگاہ پڑے اور خدا کے فرشتے جو خدا سے ہمکلام ہوتے ہیں اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ جو جواب دیتا ہے دراصل وہ مقصود ہے۔ورنہ فرشتوں کا خدا کو اطلاع دینا اپنی ذات میں کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔اس پہلو سے اس روایت پر غور ہونا چاہئے کہ فرشتوں نے خدا کی خدمت میں جو رپورٹ پیش کی وہ رپورٹ مقصود نہیں تھی بلکہ اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو فرمان ظاہر ہوتا ہے وہ مقصود ہے۔بہر حال اس تمہید کے ساتھ اب میں اصل واقعہ کی طرف واپس آتا ہوں۔حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ ان فرشتوں نے خدا کی خدمت میں یہ رپورٹ کی کہ کچھ ایسے لوگ تھے جو محض تیرے ذکر کی خاطر اکٹھے ہوئے تھے۔ان کے اکٹھے ہونے کا کوئی اور مقصد نہیں تھا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جن کی بخشش میرے ذمہ ہے۔وہ نجات یافتہ لوگ ہیں ، وہ بابرکت لوگ ہیں۔اس پر فرشتوں نے عرض کیا کہ اے خدا! ان میں ایک شخص بھی تھا جوراہ چلتے ان کے پاس بیٹھ گیا تھا اس کو کچھ علم نہیں تھا کہ یہ مجلس کس لئے ہے۔گزر رہا تھا اور گزرتے ہوئے اس نے ستانے کے لئے کچھ لوگوں کو اکٹھے بیٹھے دیکھا تو ساتھ بیٹھ گیا۔تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ خدا کے بندے جو میری خاطر، میری محبت کی خاطر ا کٹھے ہوتے ہیں یہ ایسے بابرکت وجود ہیں کہ ان کی برکتوں سے ان کے ساتھی بھی حصہ پاتے ہیں۔پس وہ بھی میری رحمت کا مورد بنے گا جو اتفاقاًان کے پاس بیٹھ گیا اور کچھ عرصہ ان کی صحبت سے اس نے حصہ پایا۔