خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 447 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 447

خطبات طاہر جلد ۸ 447 خطبہ جمعہ ۳۰ / جون ۱۹۸۹ء گیا۔اس نقطہ نگاہ سے آج کی وہ عظیم الشان مساجد جو بڑی بڑی حکومتوں کی دولت سے تعمیر ہوتی ہیں ان پر نظر ڈالیں اور جو نمازی ان میں نماز پڑھتے ہیں ان کے حالات پر غور کریں اور اس مسجد نبوی کا تصور باندھیں جو کچی اینٹوں سے تعمیر کی گئی تھی جس کی چھت گھاس پھوس کی تھی ، جس میں جب بارش برستی تھی تو ٹپک کر مسجد کے صحن کو بھی کیچڑ میں بدل دیا کرتی تھی۔اس مسجد کی زینت حضرت اقدس محمد مصطفی عمل تھے اور وہ پاکباز وجود تھے جن کو آپ کے تقویٰ نے زینت بخشی اور اپنے اپنے رنگ میں اس تقویٰ سے انہوں نے حصہ پایا۔کوئی نسبت بھی ہوسکتی ہے اس مسجد کی زینت کو ان مساجد کی زینت سے جن کی فلک بوس عمارتیں تمام دنیا پر ایک رعب اور ہیبت طاری کرتی ہیں۔یہی حال دیگر عبادت گاہوں کا ہے خواہ وہ گرجے ہوں، کیتھیڈ رل ہوں یا بڑے بڑے ٹیمپل ہوں دنیا دار کی نظر عمارت کے ظاہر پر پڑتی ہے اور خدا کی نظر ان دلوں پر پڑتی ہے جو ان عمارتوں میں خدا کی عبادت کی غرض سے حاضر ہوتے ہیں۔اس پہلو سے سب سے پہلے تو میں جماعت احمد یہ سان فرانسسکو کو مبارکباد کے ساتھ اس امر کی طرف متوجہ کرنی چاہتا ہوں کہ آپ اس مشن ہاؤس کو اپنے وجود کے تقویٰ سے زینت بخشیں، اپنے دلوں کے تقویٰ سے زینت بخشیں۔جب بھی یہاں آیا کر میں خدا کی خاطر آیا کریں اور یہ فیصلہ کر کے آیا کریں کہ آپ کی نیکی یہاں آکر دوسرے بھائیوں کی نیکی کے ساتھ مل کر ایک خوبصورت نظارہ پیش کرے گی۔امر واقعہ یہ ہے کہ نیکیاں نیکیوں کے ساتھ مل کر ایک عظیم الشان قوت بن جایا کرتی ہیں۔ایک شخص کی اکیلی نیکی اپنی جگہ خوبصورت ہے لیکن جب متفرق نیک لوگ ایک جگہ اکٹھے ہوں تو ان کی نیکی کی اجتماعی قوت سے ایک غیر معمولی عظیم الشان روحانی قوت پیدا ہوتی ہے جس کا اثر ان کے ماحول پر بھی پڑتا ہے۔ایک دوسرے پر ان کا اثر پڑتا ہے۔تبھی انفرادی دعاؤں کی ایک اپنی حیثیت اور ایک اپنا مقام ہے لیکن اس کے باوجود اجتماعی دعاؤں کی جو شان اور جو شوکت ہے یعنی روحانی معنوں میں اس کا بعض صورتوں میں انفرادی دعاؤں سے مقابلہ نہیں ہوسکتا۔پس اس مسجد کو آپ نے اپنے تقویٰ کی اجتماعی شکل سے زینت بخشنی ہے۔یہ مضمون بھی حضرت اقدس محمد مصطفیٰ نے بیان فرمایا۔آپ نے فرمایا کہ ایک موقع پر ایک جگہ خدا کے کچھ بندے اس کے ذکر کے لئے اکٹھے ہوئے اور ان کے اکٹھا ہونے کا اور کوئی مقصد نہیں تھا تو خدا کے وہ فرشتے جو دن رات انہی