خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 433 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 433

خطبات طاہر جلد ۸ 433 خطبه جمعه ۲۳ / جون ۱۹۸۹ء پہنچنا، ان کی ہمدردی کرنا کسی بھوکے کو روٹی کھلا دینا، کسی معذور کے لئے بیساکھی مہیا کر دینا، کسی تھکے ہوئے نڈھال اکیلے انسان کے لئے رفاقت مہیا کرنا، اس کے پاس بیٹھ کر اس سے پیار کی باتیں کرنا یہ ساری خدمتیں وہ ہیں جو پہلے درجے کی خدمتوں سے تعلق رکھتی ہیں۔پھر دوسری خدمت وہ ہے جو اعلیٰ اخلاق کے ذریعے پیغامات کے ذریعے کی جاتی ہے نیکی کی نصیحتوں کے ذریعے بدیوں سے روکنے کے ذریعے ، وہ خدمت ظاہری شکل تو کوئی نہیں رکھتی لیکن ایک انسان کے اعلیٰ کردار کو دوسروں تک منتقل کرنے میں ممد ثابت ہوتی ہے اور اس خدمت کا بھی بڑا نیک اثر پڑتا ہے۔تیسری خدمت وہ ہے جو دعا کے ذریعے کی جاتی ہے اور یہ وہ خدمت ہے جو اجتماعی طور پر ہی نہیں انفرادی طور پر بھی ہر احمدی کے لئے ضروری ہے۔کیونکہ اس کے بغیر کسی احمدی کی روحانی زندگی کی ضمانت نہیں دی جاسکتی اور اس کے بغیر ذاتی طور پر آپ کے ماحول میں بسنے والے ارد گرد کے لوگ یہ معلوم نہیں کر سکتے کہ آپ خدا والے ہیں۔پس سب سے زیادہ اس خدمت کو پیش نظر رکھنا چاہئے جس کا میں سب سے آخر پر ذکر کر رہا ہوں۔میرا وسیع تجربہ ہے کہ ہمیشہ وہی لوگ تبلیغوں میں بھی کامیاب ہوتے ہیں اور انہی کی نسلوں کی خاص طور پر حفاظت کی جاتی ہے جو دعا گو ہوں اور سچی ہمدردی سے اپنی دعاؤں کا فیض دوسروں کو پہنچائیں۔یہ وہ فیض ہے جو دوسری دنیا میں کسی میدان میں آپ کو دکھائی نہیں دے گا۔اس لئے جیسا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک موقع پر فرمایا کہ ہر قسم کی نیکیوں کے میدانوں میں آپ کو دوسری دنیا بھی دکھائی دے گی۔وہاں ان کے ساتھ آپ کا مقابلہ ہے لیکن تعلق باللہ کا اللہ سے محبت اور پیار اور دعائیں کر کے اس کے فضلوں کو جذب کرنے کا میدان کھلا پڑا ہے آپ کے لئے۔گویا یہ آپ ہی کا میدان رہ گیا ہے۔اس میں کھل کر دوڑیں اور خوب خدا تعالیٰ کی محبت کے جلوے دیکھیں اور دوسروں کو دکھا ئیں۔یہ وہ حصہ ہے جو میں سمجھتا ہوں کہ مغربی دنیا میں بسنے والے خصوصاً امریکہ میں بسنے والے احمدیوں کی حفاظت کے لئے اور ان کی نسلوں کی حفاظت کے لئے بہت ہی ضروری ہے۔وہ ماں باپ جو خدا کے نام پر اپنے ایک پرانے دوسرے مذہب کو چھوڑ کر ایک نئے مذہب میں داخل ہوئے ہوں اور ان کے اندر ایسی نمایاں تبدیلی پیدا نہ ہوئی ہو کہ وہ محسوس کریں کہ پہلے وہ