خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 432 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 432

خطبات طاہر جلد ۸ 432 خطبه جمعه ۲۳ / جون ۱۹۸۹ء تعلقات کے دائرے بڑھائے ہیں اور مختلف لوگوں کی مختلف رنگ میں خدمتیں شروع کی ہیں۔چنانچہ وہاں جو دعوت دی گئی مجھ سے ملاقات کروانے کی خاطر جس کو آپ Reception کہتے ہیں تو وہاں جن کو دعوت دی تھی شاذ ہی کوئی ایسا تھا جو نہ آیا ہو اور جو بھی آیا اس نے جب مجھ سے ملاقات کی اس بات کا ضرور ذکر کیا کہ احمدی بہت اچھے لوگ ہیں۔ان میں بڑا خدمت کا جذبہ ہے اور بے لوث خدمت کرنے والے ہیں۔پس وہ معمولی سی خدمت جس میں یقیناً کوئی مالی قربانی شامل نہیں تھی بلکہ محض کوئی چند کام کسی کے کر دینے، کسی کے ساتھ حسن سلوک کرنا اور اپنی خدمات پیش کرنا ، اس قسم کی چھوٹی چھوٹی باتیں ہوں گی۔اس کا بھی اتنا گہرا اثر تھا کہ بعض بڑے بڑے آدمیوں نے مجھے بتایا کہ ہم تو جماعت کا کردار دیکھ کر حیران رہ گئے ہیں۔اس قسم کے لوگ یہاں دوسری دنیا میں ملتے نہیں ہیں۔ہمیں بالکل عجیب جماعت لگی ہے یہ۔اس مضمون سے متعلق کچھ اور باتیں میں انشاء اللہ بعد میں آپ کے سامنے رکھوں گا مگر میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ وہ جماعت جو بنی نوع انسان کو فائدہ پہنچانا چاہتی ہو قرآن کریم کے بیان کردہ اصولوں کے تابع اس کو ضرور مواقع مل جاتے ہیں۔یہ کہنا درست نہیں ہے کہ امریکہ جیسے عظیم الشان ملک میں جو تمام دنیا کو روٹی کھلا رہا ہے اور تمام دنیا کی روپے پیسے سے اور ہتھیاروں سے مدد کر رہا ہے یہ چھوٹی سی غریب جماعت کیا خدمت کر سکتی ہے؟ بہت بڑا فرق ہے ان خدمتوں کا جو سیاسی حکومتیں کیا کرتی ہیں اور ان خدمتوں کا جو بنی نوع انسان کے فوائد کی خاطر مذہبی جماعتیں کیا کرتی ہیں۔سیاسی خدمتوں میں ہمیشہ کچھ بندھن کچھ الجھنیں ہوتی ہیں، کچھ ذاتی مقاصد ہوتے ہیں ان قوموں کے جو خدمتوں کا مزاج بگاڑ دیا کرتے ہیں لیکن وہ قومیں جو مذہبی جذبے سے مامور ہوکر خدمت کرتی ہیں وہ اللہ کی رضا کی خاطر خدمت کرتی ہیں۔ایک اعلیٰ پیغام کو پھیلانے کی خاطر خدمت کرتی ہیں اور خدمت کرنے والوں کے ذاتی مفادات اس میں کوئی وابستہ نہیں ہوا کرتے۔پس ان چیزوں میں بہت بڑا فرق ہے۔اس کے علاوہ ایک اور خدمت ایسی ہے جو ایکدم ظاہری طور پر تو نظر نہیں آتی لیکن وہ لطافت کے آخری درجے پر ہے اس لئے تیسرے حصے پر میں اُس کا ذکر کرتا ہوں۔میں نے بیان کیا کہ کچھ ظاہری خدمتیں ہیں جو نظر کو دکھائی دیتی ہیں، جو بدن کو محسوس ہوتی ہیں کہ غریبوں کے پاس