خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 421 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 421

خطبات طاہر جلد ۸ 421 خطبه جمعه ۱۶ جون ۱۹۸۹ء ہوں گے۔ ان کی خوبیاں اس اصول کے تابع آپ قبول کریں گے کہ الحكمة ضالة المومن (الترندى كتاب العلم حدیث نمبر ۱ ۲۶۱)۔ کہ حکمت کی چیز مومن کی گمشدہ اونٹنی اور گمشدہ چیز کی طرح ہی ہے۔ وہ دراصل اس کی ملکیت تھی۔ پس ہر سچائی کا منبع اگر اسلام ہے تو جو سچائیاں یہاں بکھری پڑی ہیں آپ ان سے کیسے نفرت کر سکتے ہیں ۔ وہ اسلام ہی کی سچائیاں ہیں۔ انہیں آپ کو اپنا نا پڑے گا اور جو سچے ہیں ان سے اس سچائی کے مطابق کسی حد تک پیار کرنا پڑے گا۔ ان کی خوبیوں کا اعتراف کرنا ہوگا اور اس ذریعے سے وہ آپ کے اندر زیادہ دلچسپی لیں گے کیونکہ سب سے بڑی طاقت اثر انداز کرنے والی سچائی ہوا کرتی ہے۔ اگر احمدیوں میں یہ قومیں سچے لوگوں کو دیکھیں ، وہ دیکھیں کہ یہ اچھی بات کا اعتراف کرنے والے ہیں ، بُری باتوں کو رڈ کرنے والے ہیں اور جو حقیقت جیسی بھی ہے خواہ ان کے لحاظ سے وہ کڑوی ہو یا میٹھی ہو یہ اس حقیقت کو قبول کرنے کی صلاحیت اور جرات رکھتے ہیں تو لازماً یہ قو میں آپ کی طرف عظمت و احترام سے دیکھنے لگیں گی اور آپ کے نظریے میں دلچسپی لینے لگیں گی ۔ تو اس پہلو سے آپ کا روحانی طور پر نفوذ کرنا اور پھیلنا ضروری ہے۔ بچوں کے ذریعے آپ ضرور پھیلیں کوئی اس سے منع نہیں کرتا بلکہ میں تو تحریک کر رہا ہوں کہ وقف نو کی خاطر بھی بچے پیدا کریں لیکن بچوں کے ذریعے پھیلنا کافی نہیں ہے۔ میں جب یہاں آیا تو میں نے بعض لوگوں سے اندازے پوچھے کہ کتنے احمدی ہیں تو اکثر نے جو جواب دیا اس کے ساتھ یہ بھی کہا کہ اس وقت تو زیادہ نہیں لیکن آپ دیکھیں گے کہ تین سال کے عرصے میں انشاء اللہ کافی ہو چکے ہوں گے۔ جب میں نے پتا کیا کہ کس طرح کافی ہو چکیں گے تو پتا لگا پیدائش کے ذریعے سے لیکن کسی نے یہ نہیں کہا کہ روحانی ذریعے سے اسلام کی خوبیوں کے نفوذ کے ذریعے سے ، اپنے اعلیٰ اور لطیف اخلاق کے نفوذ کے ذریعے سے ہم لازماً بڑھنے والے ہیں اور کوئی دنیا کی طاقت ہمیں روک نہیں سکتی۔ کسی نے یہ جواب نہیں دیا۔ اُس سے مجھے فکر پیدا ہوئی، اسی سے میرا ذہن اس خطبے کی طرف مائل ہوا کہ آپ کو یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ آپ کی جسمانی پیدائش تعداد میں برکت تو دے سکتی ہے مگر آپ کے نظریے کی حفاظت کا کوئی سامان نہیں کر سکتی اگر اس سے زیادہ تیز رفتاری کے ساتھ آپ روحانی طور پر بڑھنا نہ سیکھیں۔ یہ قو میں اگر آپ پر غالب نہیں آئیں گی تو آپ کی نسلوں پر غالب آجائیں گی اگر