خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 420
خطبات طاہر جلد ۸ 420 خطبہ جمعہ ۶ ارجون ۱۹۸۹ء ہونا تو لازم ہے کہ ان کی خوبیوں کا بھی اعتراف کریں ورنہ آپ کو یہ لوگ متعصب اور جاہل اور اندھے سمجھیں گے۔بہت سی باتوں میں جیسا کہ قرآن کریم نے متوجہ فرمایا ہے کھارے پانی کے سمندر میں بھی فائدے کی چیزیں ہیں، یہاں بھی مچھلیاں ہیں، یہاں بھی خوراک کے اعلیٰ سے اعلیٰ سامان موجود ہیں، یہاں بھی موتی ہیں مثلاً سچائی کا جہاں تک تعلق ہے اس میں کوئی بھی شک نہیں کہ آج اکثر مسلمان ممالک کی نسبت روز مرہ کی زندگی میں عیسائی ممالک میں زیادہ سچائی دکھائی دے رہی ہے۔یہ اعتراف کتنا کڑوا کیوں نہ محسوس ہو۔ہو سکتا ہے کوئی مسلمان سن کر اتنا مغلوب الغضب ہو جائے کہ وہ کہے کہ جس شخص نے یہ کہا اس کو قتل کر دینا چاہئے ، بڑی سخت اسلام کی ہتک کی ہے۔اسلام کی ہتک سچائی کی بہتک سے اور جھوٹ کی عزت افزائی سے ہوتی ہے۔پس یہ ایک حقیقت ہے اسے ہر احمدی کو تسلیم کرنے کے لئے اپنے آپ کو آمادہ کرنا چاہئے۔اس کی جرات پیدا کرنی چاہئے ،حوصلہ پیدا کرنا چاہئے لیکن اس کے ساتھ ہی اس احساس سے غافل نہیں ہونا چاہئے کہ تمام سچائیوں کا سر چشمہ اسلام ہے۔مسلمان اسلام نہیں ہے۔آج کا مسلمان یقیناً اسلام نہیں ہے۔اگر کوئی اسلام تھا تو حضرت محمد مصطفی ع تھے۔یعنی زندگی کی شکل میں انسانی صورت میں اگر کوئی اسلام کا مجسمہ تھا تو حضرت اقدس محمد مصطفی امی تھے یا وہ صحابہ تھے جن کو آپ نے پیدا فرمایا۔پس اسلام اگر کبھی شخصیتوں میں ڈھل سکتا ہے تو اس وقت ڈھلا تھا جو حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کا زمانہ تھا اور قرون اولیٰ کا زمانہ تھا۔یعنی پہلی پہلی صدیوں کا زمانہ تھا جس میں ابھی اسلام کی سچائی مسلمانوں کے وجود کا حصہ بنی ہوئی تھی۔اب صورتحال بدل چکی ہے اس لئے اسلام پر حرف نہیں ہے بلکہ ان بدنصیبوں پر حرف ہے جنہوں نے اسلام کو سچائی کے طور پر قبول کرتے ہوئے بھی جھوٹ کے ساتھ رابطے بڑھا دیئے۔تو صرف ایک نہیں اور بھی بہت سی خوبیاں ہیں ان ملکوں میں۔روزمرہ کی زندگی میں ایفائے وعدہ یہاں بہت زیادہ پایا جاتا ہے، روز مرہ کی زندگی میں حسن ظن یہاں پایا جاتا ہے، بے وجہ تجسس نہیں پایا جاتا، بے وجہ بدظنیاں نہیں پائی جاتیں، بے وجہ چھوٹی چھوٹی باتوں کو بڑھا کر لڑائی جھگڑے کرنا یہاں عموماً مفقود ہے۔بعض علاقوں میں بعض صورتوں میں پایا جاتا ہے۔تو یہ خوبیاں بھی یہاں ہیں۔اس کے مقابل پر بڑی بڑی خطرناک بدیاں بھی ہیں تو آپ کو Selective ہونا پڑے گا۔سچائی کے ساتھ جڑے رہیں گے تو آپ ان کی خوبیاں قبول کریں گے لیکن احساس کمتری کا شکار نہیں