خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 407 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 407

خطبات طاہر جلد ۸ 407 خطبہ جمعہ ۶ ارجون ۱۹۸۹ء سے متعلق میں آج آپ کے سامنے کچھ مزید باتیں کھول کر رکھنا چاہتا ہوں۔جن خوبیوں یا برائیوں کا میں نے ذکر کیا ہے وہ اب بنی نوع انسان کی مشترکہ وراثت بن چکی ہے۔اُن میں مذہبوں کی تفریق کا آپس میں دراصل کوئی تعلق نہیں رہا۔اگر نظریاتی دنیا سے اتر کر واقعاتی دنیا میں سچائی کی نظر سے آپ اس دنیا کا مطالعہ کریں تو آپ یہ دیکھ کر خوش ہوں یا غم محسوس کریں مگر یہ حقیقت اپنی جگہ رہے گی کہ انسان ایک دوسرے سے بالکل مشابہ ہو چکے ہیں۔اسلامی دنیا میں بھی اسی طرح بد اخلاقیاں ہیں جس طرح غیر اسلامی دنیا میں بداخلاقیاں ہیں، اسلامی دنیا میں بھی اسی طرح کرپشن ہے جس طرح غیر اسلامی دنیا میں کرپش ہے۔بعض صورتوں میں ، بعض کر پشن یعنی بددیانتی کی شکلیں مسلمان ممالک میں زیادہ دکھائی دیتی ہیں یہ نسبت غیر مسلم ممالک کے۔اسی طرح بعض دوسری اخلاقی برائیاں ہیں جو غیر مسلم ممالک کی نسبت اسلامی ممالک میں کم دکھائی دیتی ہیں۔تو کچھ پہلوکسی ایک کے زیادہ خراب ہیں، کچھ پہلو کسی دوسرے کے زیادہ خراب ہیں لیکن بالعموم انسان ایک جنس بن چکا ہے۔آج آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ بدھسٹ دنیا زیادہ پاک اور صاف ہے یا ہند و دنیا زیادہ پاک اور صاف ہے یا مسلمان دنیا زیادہ پاک اور صاف ہے یا عیسائی دنیا زیادہ پاک اور صاف ہے۔سارا انسان بحیثیت مجموعی بعض برائیوں میں ملوث ہو چکا ہے اور اس کا ملوث ہونا دن بدن زیادہ خطر ناک صورت اختیار کرتا چلا جاتا ہے۔پاکستان کے حالات پر آپ نظر ڈال کر دیکھیں تو آپ کو یہ حقیقت خوب اچھی طرح سمجھ میں آ جائے گی کہ اس کثرت سے اگر چہ وہاں اسلام کا نام لیا گیا اور گیارہ سال اسلام کا ایسا چرچہ رہا اس شدت اور زور کے ساتھ کہ یوں معلوم ہوتا تھا کہ اس ملک کا ذرہ ذرہ مسلمان ہو چکا ہو گا لیکن اس شدت کے اصرار کے باوجود روز مرہ کی انسانی زندگی پر اسلام کا ایک ادنی سا بھی اثر دکھائی نہیں دیتا۔یوں معلوم ہوتا ہے کہ دوسطحوں پر کام ہو رہا ہے۔ایک نظریاتی سطح ہے جہاں اسلام بڑی زور سے جلوہ گری دکھا رہا ہے اور ایک اخلاقی عملی سطح ہے جس پر اس نظریاتی سطح کا عکس تک بھی نہیں پڑا۔چنانچہ جرائم اس گیارہ سالہ ضیاء الحق کے دور میں کم ہونے کی بجائے ہر دائرہ حیات میں بڑھتے چلے گئے۔ہر زندگی کی قسم میں جرائم زیادہ شدید ہوتے چلے گئے تعداد میں بھی، یعنی کمیت کے لحاظ سے بھی اور کیفیت کے لحاظ سے بھی پہلے سے زیادہ بھیانک شکل ظاہر ہوتی چلی گئی۔اب یہ ایک واقعاتی مشاہدہ ہے جس سے دنیا کی کوئی طاقت انکار نہیں کرسکتی۔