خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 393 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 393

خطبات طاہر جلد ۸ عطا کی جاتی ہیں۔393 خطبہ جمعہ ۹ / جون ۱۹۸۹ء اس پہلو سے سب سے زیادہ اہم ذکر ضیاء الحق صاحب سابق صدر پاکستان اور سابق ڈکٹیٹر پاکستان کا ہے۔اس کی تفاصیل میں اب دوبارہ جانا مناسب نہیں لیکن آپ جانتے ہیں کہ یہ مباہلے کا چیلنج جو دراصل جس کا آغا ز رمضان مبارک ۱۹۸۸ء مئی میں ہوا تھا غالبا ۴ ارمئی یا کے ارمئی کو یہ پہلی دفعہ درس میں میں نے اس کا ذکر کیا تھا لیکن چیلنج با قاعدہ ۱۰ جون کے خطبے میں یعنی بروز جمعہ دیا گیا۔اس کے بعد بار بار مرحوم صدر کو یہ توجہ دلائی جاتی رہی کہ آپ اگر چیلنج قبول کرنے میں سیکی محسوس کرتے ہیں، کسی قسم کی خفت محسوس کرتے ہیں اس خیال سے کہ آپ بہت بڑے آدمی ہیں اور میں بالکل بے حیثیت اور چھوٹا انسان ہوں یا جماعت کی آپ کی نظر میں کوئی بھی قدرو قیمت نہیں ہے تو کم سے کم ظلم سے باز آجائیں۔اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو میری دعا یہ ہے کہ خدا کی نظر میں یہ مباہلہ قبول سمجھا جائے۔یعنی خدا کی نظر میں آپ کی حیثیت مباہلہ قبول کرنے والے کی شمار ہو اور پھر خدا کا عذاب آپ پر نازل ہو۔اس لئے میں آپ کو متنبہ کرتا ہوں۔ہاں اگر آپ ان چیزوں سے باز آجائیں تو آپ کا پیغام ہمیں یہی ہوگا کہ ہاں میں مباہلہ قبول کرنے کی اہلیت نہیں رکھتا یعنی مباہلہ قبول کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا اس لئے میں اپنے ظلموں سے تو بہ کر رہا ہوں۔ایسی صورت میں ہم یہ دعا کریں گے کہ اللہ تعالیٰ آپ پر فضل فرمائے ، آپ کو مزید ہدایت عطا کرے۔نہ صرف یہ کہ انہوں نے اس نصیحت پر عمل نہیں کیا بلکہ مخالفانہ عمل کیا اور شرارت میں بڑھنا شروع ہوئے۔یہاں تک کہ مرنے سے چند دن پہلے ایک مبہم ساذ کر بھی کیا کہ میں عنقریب ایک خوشخبری اور سناؤں گا۔اللہ بہتر جانتا ہے کہ کیا خباثت پنپ رہی تھی جس کو پایہ تکمیل پر پہنچنے سے پہلے ہی خدا نے نوچ کر پھینک دیا مگر بہر حال وہاں سے جو اطلاعات مل رہی تھیں اس سے یہی معلوم ہوتا تھا کہ جو انہوں نے مرنے سے کچھ عرصہ پہلے علماء کی کانفرنس بلائی تھی جس میں یہ وعدہ کیا تھا خوشخبری کا اس میں کچھ احمدیوں کے خلاف سازشیں ہوئی تھیں اور انہیں پھر مزید قوانین کی صورت میں ڈھال کر احمدیوں کا عرصہ حیات مزید تنگ کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔یعنی گیارہ اور بارہ کی درمیانی رات۔میں نے اس سے پہلے ہی یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ اس خطبے میں میں یہ ذکر کروں گا کہ ضیاء الحق صاحب نے عملاً یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ مباہلے کو تخفیف کی نظر سے دیکھتے ہیں ، حقارت سے دیکھ رہے ہیں اور چیلنج کو قبول کرتے ہوئے مخالفانہ