خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 371 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 371

خطبات طاہر جلد ۸ 371 خطبہ جمعہ ۲ / جون ۱۹۸۹ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تصاویر کے ساتھ آپ کا کوئی بھی دور کا بھی مشرکا نہ تعلق نہیں ہے تو ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ خلفاء کے لئے بھی آپ کے دل میں کوئی نا جائز جذ بہ نہیں ہوگا۔اس نصیحت کے علاوہ اب میں ایک اور مضمون کی طرف متوجہ ہوتا ہوں۔ہم نے دنیا میں تو حید کو پھیلانا ہے اور تمام بنی نوع انسان کو ایک کرنا ہے۔اس سلسلے میں ایک خطرہ ہے جو بار بارسر اٹھاتا ہے اور بار بار اس کی طرف متوجہ کرنے کی ضرورت ہے کہ قومی اور ملکی اور جغرافیائی اختلافات کو احمدیت کی پجہتی کی راہ میں حائل ہونے دیا جائے۔یہ ایک ایسا خطرہ ہے جو بعض دفعہ دب جاتا ہے بعض دفعہ سر اُٹھاتا ہے۔بعض ملکوں میں فتنے پیدا ہوتے ہیں تو وہاں سر اٹھا لیتا ہے۔بعض خلافتوں کے دوران یہ دب جائے گا اور بعض خلافتوں کے دوران دوبارہ اُٹھے گا۔یہ تفصیلی مضمون ہے اس کی وجوہات میں اور اسباب کے پس منظر میں جانے کی ضرورت نہیں مگر میں جماعت کو متنبہ کرتا ہوں کہ ہم امت واحدہ ہیں۔ایک خدا کے بندے ہیں، ایک خدا کی آواز پر لبیک کہنے والے ہیں۔آنحضرت ﷺ نے ہماری وحدت کی جو بنیاد ڈالی ہے اس میں خلل نہیں واقع ہونے دینا اور نسلی تفریق اور قومی تفریق اور جغرافیائی تفریق، کالے، گورے اور سفید کی تفریق۔یہ تفریق نہیں پیدا ہونے دینی۔جن جن ملکوں میں احمدیت پھیل رہی ہے وہاں سب سے زیادہ خطرہ اس بات کا ہے کہ پاکستانیت کے اوپر حملہ کر کے اس بات کو اٹھایا جائے کہ احمدیت تو اسلام ہے یعنی عالمگیر ہے۔یہ پاکستانی کلچر، یہ پاکستانی مزاج ، یہ پاکستانی عادات ہمیں قبول نہیں ہیں احمدیت کے نام پر۔یہ دیکھنے میں بالکل معقول اور جائز بات ہے اس سے انکار نہیں ہوسکتا لیکن سوال یہ ہے کہ کون سی چیز پاکستانیت ہے اور کونسی نہیں ہے اور کیا واقعی احمدیت پاکستانیت ٹھونس رہی ہے یا نہیں ٹھونس رہی اگر صرف اتنا سوال ہو تو پھر خطرہ نہیں ہے لیکن جب یہ کہا جاتا ہے کہ دین اسلام ہے اور تمام دنیا کا واحد مشترک دین ہے اور پاکستان سے آنے والے ایک ملک کے نمائندہ ہیں تو پھر آئندہ بہت سے خطرات کے رستے کھل جاتے ہیں اور یہاں سے آغاز ہو کر پھر تفریق کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے کہ نہیں ہم پاکستانیت کو قبول نہیں کریں گے، فلاں بات قبول نہیں کریں گے۔ایک باغیانہ رجحان ایک نفرت کا رجحان ،ایک قومیت کی تفریق کا رجحان پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے اور یہ رجحان ضروری نہیں کہ سفید ملکوں میں ہو کالے ملکوں میں بھی ہو جاتا ہے، زرد ملکوں میں بھی ہو جاتا ہے۔ہر ملک میں یہ خطرہ ہے کیونکہ یہ