خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 363 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 363

خطبات طاہر جلد ۸ 363 خطبه جمعه ۲ / جون ۱۹۸۹ء طرف توجہ کریں اور تمام دنیا کی جماعتیں جہاں لٹریچر پہنچا ہے یا پہنچنا چاہئے تھا وہ اس وقت میری مخاطب ہیں۔تمام دنیا کے ایک سو بیس ممالک کی جماعتیں میری مخاطب ہیں جہاں خدا کے فضل سے جماعت احمد یہ قائم ہو چکی ہے اور ان میں وہ سب جماعتیں ہر ملک کی وہ جماعت شامل ہے جس جماعت میں کوئی تصنیف و اشاعت کا مرکز قائم کیا گیا ہے یا نمائش کا انتظام کیا گیا ہے۔جو باتیں میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں ان پہلوؤں سے مجھے اطلاع بھجوائی ہے۔پہلی بات یہ کہ آپ کو اب تک کتنی زبانوں میں قرآن کریم کے تراجم ملے ہیں، منتخب آیات کتنی ہیں اور مکمل قرآن کریم کے تراجم کتنے ہیں اور کتنی کتنی تعداد میں ہیں؟ دوسری بات یہ کہ حدیث نبوی ﷺ کتنی زبانوں میں ملی ہے اور اس میں بھی تعداد کتنی اور تیسری بات جو ہے وہ سب پہ مشترک ہوگی لیکن پہلے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اقتباس کے متعلق بات کر لوں۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اقتباسات کے متعلق کتنی زبانوں میں ملے ہیں اور کتنی تعداد میں؟ تیسری اہم بات اس کے بعد یہ ہوگی کہ آپ نے تقسیم کا کیا انتظام کیا ہے اور آیا جس تعداد میں آپ کو یہ لٹریچر ملا ہے وہ تھوڑی ہے آپ کے نزدیک یا زیادہ ہے یا کافی ہے؟ زیادہ کا تو خیر سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ دنیا اتنی وسیع ہو چکی ہے، اتنی کثیر ہو چکی ہے کہ جس تعداد میں ہم لٹریچر شائع کر رہے ہیں، دنیا کے سوویں حصے کو بھی پورا نہیں آسکتا۔اس لئے وہ تو غلطی سے میرے منہ سے نکل گیا کہ زیادہ ہے، زیادہ کا تو کوئی سوال نہیں ہے، کم ہے تو کتنا ہے؟ کم میں ان معنوں میں نہیں کہ رہا کہ تمام ملک کی ضرورت سے کتنا کم ہے۔کم سے میری مراد یہ ہے کہ آپ میں خدا تعالیٰ نے جتنی طاقت رکھی ہے کہ اس لٹریچر کوتقسیم کر سکیں اس طاقت کے مقابل پر کتنا کم ہے اس لئے یہ بات لکھنے سے پہلے یہ جائزہ لینا ضروری ہوگا کہ آپ کی جماعت کی زیادہ سے زیادہ استطاعت کیا ہے؟ کس کس زبان میں وہ کتنی تعداد میں لٹریچر تقسیم کرنے کی توفیق رکھتے ہیں۔پہلے وہ تو فیق مقرر کریں پھر مجھے لکھیں کہ ہماری توفیق سے یہ اتنی کم تعداد ہے ہمیں مزید لٹریچر مہیا کیا جائے۔علاوہ ازیں اس لٹریچر کے علاوہ بھی بہت سا لٹریچر ایسا ہے جو مختلف زبانوں میں، مختلف موضوعات پر تیار ہے اور اس لٹریچر کے ساتھ تقسیم ہونے کے لئے وہ صد سالہ جو بلی کا پیغا م بھی ہے جو