خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 350
خطبات طاہر جلد ۸ 350 خطبه جمعه ۲۶ رمئی ۱۹۸۹ء ہوتے ہیں۔چنانچہ آنحضور ﷺ کے وصال کے بعد خلافت ثانیہ کے دور میں ہی معلوم ہوتا ہے وہ فتنے دوبارہ جاگنے شروع ہو گئے تھے اور مؤرخین جو مجموعی طور پر آنحضرت ﷺ کے عہد اور بعد کے حالات کو دیکھتے ہیں وہ ایک تسلسل کے ساتھ بات بیان کرتے ہیں کہ کس طرح عربوں کی پرانی دشمنیاں اور قبائل کی ایک دوسرے کے ساتھ رقابتیں پہلے ہی سے بعض دلوں میں جڑ کر چکی تھیں اور وہ منتظر تھے کہ کب ان کو موقع ہاتھ آئے تو ان چیزوں کو ہاتھ میں لے کر اُچھال کر ، دوبارہ زندہ کر کے پھر ہم اپنے مقاصد کو حاصل کر سکیں۔پس معا بعد رسول اکرم ﷺ کے معا بعد یا دیگر انبیاء کی وفات کے معا بعد گزرے ہوئے نبی کی محبت دوبارہ قوم پر احسان کرتی ہے اور وہی نعمت ہے جو ان کو دوبارہ فتنوں سے بچانے کا موجب بنا کرتی ہے۔جماعت احمدیہ کو اس بات کو پیش نظر رکھنا چاہئے کہ جس اتفاق پر زور دیا گیا ہے یہ اتفاق دراصل ایمان کی نشانی ہے اور حبل اللہ سے چھٹے رہنے کی ایک ظاہری علامت ہے ورنہ ہر شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ میں نے خدا کی رسی کو مضبوطی سے پکڑا ہوا ہے میں اس سے جدا نہیں ہوتا۔اگر ہر شخص اپنے اس دعوی میں سچا ہو تو ایسی جماعت میں کوئی اختلاف نہیں ہوسکتا، ناممکن ہے۔جہاں حبل اللہ پر ہاتھ کمزور ہو جائے اور گرفت ڈھیلی پڑ جائے وہیں سے انسان سرکنا شروع ہو جاتا ہے اور پھر اختلاف کی راہیں پیدا ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔پس آنحضرت ﷺ کے بعد مجھے کامل یقین ہے کہ خلافت راشدہ ہی حبل اللہ تھی اور اس حبل اللہ کے ساتھ تعلق میں جب بدقسمتی سے بعض لوگوں نے کمزوری دکھائی تو سب فتنے پیدا ہوئے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وصال کے دن سب سے اہم نصیحت جو جماعت کو کی جاسکتی ہے وہ وہی ہے جو قرآن کریم نے حضرت رسول اکرم ﷺ کے وصال کے تعلق میں مومنین کو کی تھی۔آپ لوگ مضبوطی کے ساتھ خلافت کی رسی کو پکڑ لیں اور کسی قیمت پر اس رہی سے الگ نہ ہوں۔اختلاف تو ضرور پیدا ہوا کرتے ہیں قوموں کے درمیان۔ایک گھر میں اختلاف ہو جایا کرتے ہیں لیکن گھروں کے اختلاف بھی تبھی دور ہوا کرتے ہیں اگر گھر کے معزز اور بڑے ایسے شخص کے ساتھ ہر گھر کے ہر شخص کا تعلق ہو جو اس گھر میں بڑے گھر کے طور پر ایک خاندان کے طور پر بستا ہے۔مثلاً اگر ایک دادا ہے بڑی عمر کا اور اس کے سب بچے بھی اس گھر میں رہ رہے ہیں جس طرح