خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 314
خطبات طاہر جلد ۸ 314 خطبه جمعه ۱۲ارمئی ۱۹۸۹ء خصوصیت کے ساتھ گیارہ سالہ دور میں بڑی ہمت کے ساتھ کوشش کی کہ بڑے بڑے سیاسی لیڈروں راہنماؤں، سفارتکاروں تک پاکستان کے حالات رکھیں اور جہاں تک ممکن ہو اخبارات میں بھی ان کو شائع کریں تا کہ رائے عامہ کو ان مظالم کے خلاف بیدار کیا جا سکے۔اس لمبے تجربے نے ہمیں ایک بات ضرور سکھائی کہ انسانی سطح پر ہم سے ضرور ہمدردیاں کی گئی ہیں ، ہم اس بات کا انکار نہیں کر سکتے۔انسانی سطح پر تو خصوصاً جرمنی نے اتنی ہمدردی کی ہے، آج یورپ کے ممالک میں سب سے زیادہ مہاجرین کو قبول کرنے والا ملک جرمنی ہے۔اس لئے تقویٰ اور انصاف کا تقاضا ہے کہ جہاں بعض شکوے کئے جائیں وہاں بعض احسانوں کو بھی اظہار تشکر کے ساتھ قبول کیا جائے تسلیم کیا جائے اور بتایا جائے کہ ہم آپ کے زیرا احسان ہیں۔آپ سارے جو اس وقت یہاں میرے سامنے بیٹھے ہیں وہ اس بات کے گواہ ہیں کہ یورپ کے تمام ممالک میں سب سے بڑھ کر انسانی ہمدردی کا سلوک جس ملک نے کیا ہے وہ جرمنی ہے۔اس لحاظ سے جو ہماری ذمہ داریاں ہیں شکریہ کا حق ادا کرنے کی وہ تو ایک الگ مضمون ہے۔میں یہ بتانا چاہتا ہوں اس کے باوجود اور باوجود اس کے کہ جرمن حکومت کو بارہا صورتحال سے مطلع رکھا گیا اور تمام مظالم کی تفاصیل، سازشوں کی تفاصیل پہنچائی جاتی رہی اور باوجود اس کے کہ جرمن حکومت کی طرف سے غالباً ان کے سفیروں کے ذریعے پاکستان حکومت کو سمجھانے کی بھی کوشش کی جاتی ہوگی لیکن عملاً اس آواز میں وہ طاقت نہیں تھی ، وہ زور اور وہ سنجیدگی نہیں تھی جس کے نتیجے میں کوئی دوسرا ملک اپنی پالیسی کو بدلنے پر مجبور ہو جائے۔اظہار ہمدردی تو ہو ہی جایا کرتا ہے لیکن اظہار ہمدردی کے بھی طریق ہوا کرتے ہیں۔بعض دفعہ ایک انسان ایک بات کو نا پسند کرتا ہے اور کہتا ہے کہ جی مجھے پسند نہیں۔مائیں اپنے بچوں کے ساتھ اس طرح سلوک کرتی ہیں وہ شرارتیں کرتے ہیں وہ کہتے ہیں نہیں نہیں رہنے دور بہنے دو اور وہ کرتے چلے جاتے ہیں۔آپ کئی دفعہ ایسے بد تہذیب گھروں میں بھی مہمان ٹھہرے ہوں گے جہاں ان کے بچے آپ کے اوپر کیچڑ اچھال رہے ہیں، سالن گرا رہے ہیں، آپ کے کپڑے خراب تھوک رہے ہیں اور مائیں بڑی نرمی سے کہہ دیتی ہیں نہ نہ نہ بچے ایسا نہ کرو بری بات ہے اور بچوں کو اثر ہی کوئی نہیں ہوتا۔اس لئے بچے جانتے ہیں کہ اس ناپسندیدگی میں اور سچی ناپسندیدگی میں ایک فرق ہے۔وہ گھر جہاں مہمانوں کا احترام صحیح معنوں میں کیا جاتا ہے جہاں بچوں کو صحیح معنوں میں ادب سکھایا جاتا ہے وہاں ایک آواز باپ کی خواہ