خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 310
خطبات طاہر جلد ۸ 310 خطبه جمعه ۲ ارمئی ۱۹۸۹ء Pagans کو چھوڑ چھوڑ کر عیسائی ہو رہے ہوں وہ عیسائیت کو چھوڑ چھوڑ کر مسلمان ہونے لگ جاتے ہیں۔یہ وہ ایک تاریخ کی گواہی ہے جو گزشتہ ایک سوسال کے اندر کہ جس کے متعلق بھی کوئی اختلاف نہیں ہے۔ابھی حال ہی میں جو صد سالہ جو بلی یعنی جشن تشکر کے سلسلے میں افریقہ میں جلسے ہوئے ہیں ان میں بعض بڑے بڑے صاحب اقتدار سیاستدانوں نے بھی ہمارے جلسوں میں شمولیت کی اور کھلم کھلا اس بات کا اعتراف کیا کہ احمدیت وہ طاقت ہے جس نے عیسائیت کے خلاف ایک قلعہ قائم کر دیا اور صرف قلعہ ہی قائم نہیں کیا جس کے اندر بند ہو کر ہم عیسائیت کے حملوں سے محفوظ رہ سکتے تھے بلکہ پھر یہ جارحانہ طور پر باہر نکلے ہیں اور رُخ پلٹ دیئے ہیں۔وہ علاقے جہاں کثرت کے ساتھ مسلمانوں میں سے عیسائی ہو رہے تھے آج ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ کثرت کے ساتھ عیسائیوں میں سے لوگ مسلمان ہو رہے ہیں۔یہ وہ عظیم الشان کامیابی احمدیت کی ہے جس کو ان ممالک کے سر براہوں نے بھی دوسروں نے بھی بڑی تحسین کی نظر سے دیکھا اور کھلم کھلا اس کا اعتراف کیا۔بعض سربراہوں کے پیغامات میں بھی اس بات کا ذکر ہوا اس لئے عیسائیت کے خلاف جو جماعت نبرد آزما ہے اور بڑی قوت اور کامیابی کے ساتھ نبرد آزما ہے اگر اس کی راہیں روک دی جائیں تو وہ ممالک جن کو عیسائیت سے اگر مذہبی محبت نہیں تو سیاسی محبت ضرور ہے۔ان کو اس سے دوہرا فائدہ پہنچتا ہے۔اس لئے ان کو اور اس سے زیادہ کیا چاہئے کہ ایک طرف ان کا دوست ملک جو کامل طور پر ان کا وفادار رہنے پر مجبور ہے اس کا نفوذ پھیلے گا دنیا میں۔دوسری طرف وہ جماعت جو عیسائیت کے خلاف سب سے زیادہ خطرناک ہتھیار رکھتی ہے اس جماعت کی سرگرمیوں کے اوپر پابندیاں عائد ہو جائیں گی اور اس کو بے بس اور نہتا کر دیا جائے گا۔پس یہ وہ عالمی سازش ہے جس کے نتیجے میں صرف پاکستان کا سوال نہیں ہے تمام دنیا میں جماعت احمدیہ کو بڑھتے ہوئے خطرات درپیش ہیں۔چنانچہ اس صورت حال کو پیش نظر رکھ کر آپ کو اپنی دفاعی کارروائی کرنی چاہئے جہاں تک عیسائیت کا تعلق ہے اس کے متعلق میں وضاحت کرنی چاہتا ہوں کہ امر واقعہ یہ ہے کہ عیسائی دنیا کے ساتھ آپ کی کوئی دشمنی نہیں ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ عیسائی دنیا خود مذہب سے ایسی تیزی سے متنفر ہوتی چلی جارہی ہے کہ اگر آپ ان کو نہ سنبھالیں اور خدا کی محبت دوبارہ ان کے دلوں میں قائم نہ کریں تو وہ کچھ بھی نہیں رہیں گے۔اس لئے جو رقابت ہے