خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 26
خطبات طاہر جلد ۸ 26 26 خطبه جمعه ۱۳/جنوری ۱۹۸۹ء خوش نصیب انسانوں کے کسی شخص نے اپنی حد استطاعت تک اس مضمون کا سفر طے نہیں کیا پر حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ یکتا انسان تھے جنہوں نے تمام انبیاء سے بڑھ کر اس سفر کے سارے مراحل طے کر لئے اور کامل طور پر تبتل الی اللہ اختیار کر لیا۔پس تبتل الی اللہ کے متعلق کچھ تفصیل ضروری ہے کیونکہ یہ خیال غلط ہے کہ پہلے فرار کی ساری منزلیں طے ہو جائیں تب تبتل کا سفر شروع ہوتا ہے۔بیک وقت دونوں باتیں چل سکتی ہیں تبھی خدا تعالیٰ نے ایک آیت میں ان دونوں کو اکٹھا کر دیا ہے۔یعنی تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ کہ ان کے پہلو راتوں کو اپنی آرام گاہوں سے جُدا ہوتے ہیں خوف کی وجہ سے بھی اور طمع کی وجہ سے بھی۔پس یہ درست ہے کہ جہاں انسان فرار اختیار نہیں کرتا اس حصے میں اسے خدا کی طمع نصیب نہیں ہو سکتی لیکن یہ درست نہیں ہے کہ جب تک پورا فرار نہ ہو جائے اس وقت تک کوئی طمع بھی پیدا نہیں ہو سکتی۔بعض انسان بعض گناہوں میں ملوث ہوتے ہیں اور بعض دوسرے پہلوؤں سے خدا تعالیٰ کی بعض صفات کی طمع ان کو نصیب ہو چکی ہوتی ہے۔ان پہلوؤں میں جہاں ان کو طمع نصیب ہو جاتی ہے وہاں وہ ان کے مقابل کی برائیوں سے مکمل فرار اختیار کر چکے ہوتے ہیں لیکن بعض دوسری جگہ ان کے دامن اسکے ہوتے ہیں۔آپ جب جنگلوں میں سفر کرتے ہیں تو ضروری نہیں کہ آپ کا تار تار کانٹوں میں پھنس جائے۔بعض پہلو کانٹوں میں پھنسے ہوتے ہیں، بعض آزاد ہوتے ہیں جو آگے کی طرف بڑھ رہے ہوتے ہیں۔اس لئے یہ دونوں مضمون بیک وقت شروع ہوں گے لیکن طمع کا مقام فرار کے بعد آئے گا یعنی ہر فرار کے بعد ایک طمع کا مقام پیدا ہو گا۔اس لئے اس طمع کو تل میں تبدیل کر کے اگر ہم دیکھیں تو اس کا ایک نقشہ ذہن میں اُبھرتا ہے جو میں آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔ایک پھل جو پکا ہوا نہ ہو اس کی کھال جلد اوپر سے اتارنے کی کوشش کریں گے تو آپ دیکھیں گے یا تو وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو کر اُترے گی یا بارہا جگہ جگہ سے وہ پھل بھی اس کے ساتھ آ جائے گا لیکن جو پھل پک چکا ہو اس کی جلد بعض دفعہ خود ہی پھول کر اس سے الگ ہو جاتی ہے۔اسی طرح بیجوں کا حال ہے اور دنیا میں ہم ہر جگہ دیکھتے ہیں کہ ایک چیز جب وہ دو تعلق رکھتی ہو تو ایک تعلق جب تک مکمل طور پر دوسرے تعلق سے مغلوب نہیں ہو جاتا وہ چیز آسانی سے اس سے الگ نہیں ہو سکتی۔