خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 304
خطبات طاہر جلد ۸ 304 خطبه جمعه ۱۲ رمئی ۱۹۸۹ء مختلف مسلمان ممالک میں جب وہاں بغاوتیں کروائی گئیں تو ترکی سے وہاں تک کہ رابطے چونکہ لمبے تھے فاصلوں کے لحاظ سے اس لئے بیچ میں سعودی عرب کے سپاہی کہہ لیں یا تخریب کا رکہہ لیں لیکن جو بھی ان کی شکل تھی وہ گروہ در گروہ ترکی قافلوں پر حملے کر کے ان کی مواصلات کو تباہ کرتے تھے اور یہ بات بھی ایک تاریخی مسلمہ حقیقت ہے اس کو کوئی الزام تراشی نہیں کہ سکتا۔دنیا کا کوئی مؤرخ بھی اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتا کہ اسی طرح ہوا اور انگریز کی ایما پر ایسا ہوا۔چنانچہ ترک اس بات کو کبھی نہیں بھول سکتے تھے اور ایک بہت لمبا عرصہ تک عرب دنیا سے جب ترکوں کو دوری اختیار کرنا پڑی ان حالات کی وجہ سے اس میں سب سے زیادہ نفرت ان کو سعودی عرب سے تھی۔پس یہ دو نفرتیں اکٹھی تھیں یعنی مذہبی نفرت اور سیاسی نفرت اس لئے اگر سعودی عرب وہاں براہ راست داخل ہو تو ظاہر بات ہے کہ اس کے خلاف شدید ردعمل ہوں گے لیکن اگر سعودی عرب اپنے روپے سے اینٹی احمد یہ لٹریچر تقسیم کروانا شروع کر دے اور جماعت کے خلاف نہایت گندے الزامات پر مشتمل کتابوں کی کثرت سے اشاعت کروائے خواہ وہ جماعت اسلامی کو اس غرض سے استعمال کرے یا کسی اور جمیعت کو استعمال کرے تو جن علماء تک وہ روپیہ پہنچتا ہے وہ اسے خوشی سے قبول کریں گے اور وہ سمجھیں گے کہ یہ تو ساری کوششیں ان کے نزدیک جو اسلام کی دشمن جماعت ہے اس کے خلاف ہو رہی ہیں اور جو ملک بھی ان کوششوں کی سر براہی کرے گا وہ اسلام کا دفاع کرنے والا ملک شمار ہوگا اور اسلام کا حمایتی شمار ہو گا۔پس اس سلسلے میں جب مختلف جگہ پر اڈے قائم ہوں گے، ان کو روپیہ دینا پڑے گا تو بلا خوف لومتہ لائم کسی ملامت کرنے والے کے خوف سے بے نیاز ہوکر اس روپیہ کو قبول کیا جاسکتا ہے۔اسی طرح مصر میں بھی ایسا ہی کیا گیا، اسی طرح افریقن ممالک میں بھی ایسا ہی کیا گیا اور مختلف راستوں سے جو ہمیشہ ایک نہیں تھے۔کبھی کسی تنظیم کے تابع ، کبھی کسی دوسری تنظیم کے تابع۔سعودی عرب نے جماعت احمدیہ کی مخالفت میں ایک نمایاں کردار ادا کرنا شروع کیا۔اگر یہ نہ ہوتا تو افریقہ میں بھی سعودی عرب کو کوئی نفوذ حاصل نہیں ہو سکتا تھا کیونکہ مالکی بھی وہابیت سے بہت سخت متنفر اور اس کے عروج سے خائف ہیں۔چنانچہ آج بھی باوجود اس کے کہ احمدیت کی مخالفت کی شکل میں وہاں سعودی عرب نفوذ کر رہا ہے۔مالکیوں میں ابھی ایک بے چینی کی لہر دوڑ چکی ہے اور وہ سمجھتے ہیں