خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 303
خطبات طاہر جلد ۸ 303 خطبه جمعه ۱۲ارمئی ۱۹۸۹ء ان ممالک کو جہاں مسلمانوں کی کثرت تھی یا ایک بھاری تعداد موجود تھی اس طرح رو پی دینا شروع کیا کہ وہاں عظیم الشان مساجد تعمیر کی گئیں اور پھر ان مساجد کو آباد کرنے کے لئے دینی مدارس قائم کئے گئے اور دینی مدارس کے ذریعے جو بھی علماء فارغ التحصیل ہوا کرتے تھے ان کو سعودی رو پے پر مختلف مساجد میں امام بنایا گیا۔چونکہ سعودی عرب کو دولت کی فراوانی کی وجہ سے باقی تمام مذہبی جماعتوں پر ایک فوقیت حاصل ہے اس لئے کوئی اور مذہبی جماعت ان فارغ التحصیل ائمہ کو اتنی رقوم تنخواہوں اور گزاروں کی صورت میں نہیں دے سکتی تھی جتنا سعودی عرب دے سکتا تھا چنانچہ کثرت کے ساتھ ان ممالک نے بھی سعودی نفوذ کا جال پھیلا دیا گیا جہاں اس سے پہلے وہابیت کا لفظ قابل نفرت سمجھا جاتا تھا۔جماعت احمد یہ کیسے اس مضمون میں داخل ہوئی؟ اگر چہ جتنا حصہ میں نے مضمون کا بیان کیا ہے ابھی تشنہ تکمیل ہے اور بہت لمبی اور گہری سازش ہے، بہت وسیع سازش ہے جس کو بیان کرنے کے لئے ایک لمبا وقت درکار ہے لیکن کیونکہ میں دراصل اس مضمون پر گفتگو نہیں کر رہا بلکہ جماعت احمدیہ کو سمجھانا چاہتا ہوں کہ آپ اس بین الاقوامی تعلقات کے روابط میں کیسے داخل ہوئے اور کیوں آپ کو خاص طور پر مظالم کا نشانہ بنانے کے لئے چن لیا گیا؟ سعودی عرب نے جس ملک میں بھی نفوذ کیا ہے وہاں اگر براہ راست علماء کو خریدتا یا براہ راست ان کو وہابیت کی تعلیم دیتا تو ہر گز بعید نہیں تھا کہ سعودی عرب کی ان کوششوں کے خلاف وہاں کے مسلمانوں میں شدید رد عمل پیدا ہو جاتا۔مثلاً ترکی ہے۔ترکی کی سعودی عرب سے قدیم رقابتیں ہیں اور بڑی شدید رقابتیں ہیں، سیاسی سطح پر بھی اور مذہبی سطح پر بھی۔ترکی ایک حنفی المسلک ملک ہے اور ترکیوں کو شفی مذہب سے بے حد محبت ہے اور وہ سمجھتے ہیں وہابیت حفیت کی دشمن ہے۔پھر ترک وہ قوم ہے جنہوں نے سال ہا سال بلکہ بیسیوں بلکہ سینکڑوں سال تک اسلام کے لئے ایک عظیم قلعہ کا کام دیا ہے اور ایک وقت میں یہ اتنی عظیم الشان سیاسی طاقت کے طور پر دنیا پر ابھرے کہ اسلامی ممالک اور مغربی ممالک کے درمیان اگر کوئی فصیل تھی تو وہ ترکوں کی فصیل تھی اور عرب ممالک پر بھی دیر تک انہوں نے حکمرانیاں کیں۔سعودی عرب نے جب یہ انگریزوں کے زیر اثر تھا خاص طور پر ترکوں کی حکومت کو عربوں میں کمزور کرنے کے لئے نمایاں کردار ادا کیا اور ان کے جو گورنر مقرر تھے