خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 288
خطبات طاہر جلد ۸ 288 خطبه جمعه ۵ارمئی ۱۹۸۹ء اوپر جہنم لازمی ہو چکی ہے۔جھوٹ سے پر ہیز میں وہ شدت نہیں رکھتے اور سچائی کا وہ احترام نہیں رکھتے۔اس لئے سب سے بڑا جہاد جو اس صدی کے سر پر آپ کو کرنا ہے وہ جھوٹ کے خلاف ہے۔ور نہ آپ رسالت کے ساتھ وفاداری کا حق ادا نہیں کر سکتے۔آپ کے سارے تعلقات پر اس چیز نے اثر انداز ہونا ہے اور تمام بنی نوع انسان کو جو آپ نے نئے تعلقات عطا کرنے ہیں یعنی حضرت اقدس محمد مصطفی عملے کے وسیلے سے آپ نے جو نئے تعلقات ادا کرنے ہیں ان میں سب سے زیادہ اہمیت سچائی کو ہے۔کیونکہ رسالت کے انتخاب میں اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ اہمیت سچائی کو دیتا ہے۔دوسرا حصہ امین ہونے کا ہے۔اگر ہم ایک دوسرے کے اموال کے امین نہیں ہیں، اگر ہم ایک دوسرے کی عزتوں کے امین نہیں ہیں، اگر ہم پیغاموں کے امین نہیں ہیں تو جوں جوں وقت گزرتا چلا جائے گا ہماری قدریں تبدیل ہوتی چلی جائیں گی۔ملاوٹیں پیدا ہونی شروع ہو جائیں گی چیز خالص نہیں رہے گی۔پس جس طرح دودھ کی حفاظت اس طرح کی جاتی ہے کہ اس میں کوئی دوسری چیز نہ مل جائے اسی طرح سب سے زیادہ پیغام محمد مصطفی ﷺ کی حفاظت کی ضرورت ہے تا کہ انسانی نفس کے ملونی اس پیغام میں شامل نہ ہو جائے اور اس پیغام کی حفاظت کے ساتھ ساتھ اس پیغام کے نتیجے میں جو انسانی تعلقات قائم ہوتے ہیں ان کی حفاظت کی ضرورت ہے اور ان کی پاکیزگی کی حفاظت کی ضرورت ہے اور امین ہونا ہمارے لئے تقریباً روزانہ آزمائشیں لے کر آتا ہے کیونکہ بعض امانتوں میں ہم سمجھتے ہیں کہ بہت ہی مقدس امانتیں ہیں ان کو چھیڑنا نہیں چاہئے لیکن بعض امانتوں میں ہم بے پرواہ ہو کر خیانتیں شروع کر دیتے ہیں اور یہ نہیں سوچتے کہ بنیادی طور پر جب آپ کسی ایک پہلو سے بھی خائن بننا شروع ہو جائیں تو امین سے آپ کے تعلقات ٹوٹ جاتے ہیں۔حضرت اقدس محمد مصطفی عملہ سے آپ کی محبت اور عشق کے اوپر حرف آ جاتا ہے۔پس جب اموال آپ کے سپرد کئے جائیں اور آپ امین نہ رہیں، جب آپ لوگوں سے اموال اس نیت سے لینا شروع کر دیں کہ ہم جب چاہیں، جب موقع ملے گا اس میں سے کچھ استعمال بھی کر لیں گے شرط یہ ہے کہ اس کو پتا نہ چلے۔تو پھر یہ معاملات آگے بڑھتے ہیں پھر اس کے بعد انسان خائن سے ڈا کو بننے لگتا ہے پھر غاصب ہو جاتا ہے پھر عام آدمیوں کے حق غصب کرنے کے علاوہ مظلوموں اور محروموں کے حق مارنے لگتا ہے، کمزوروں کے حق مارنے لگتا ہے۔آج کل تیسری دنیا میں جو کچھ ہورہا