خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 287
خطبات طاہر جلد ۸ 287 خطبه جمعه ۵ رمئی ۱۹۸۹ء ہم سچائی کے اعلیٰ معیار پر قائم نہیں رہیں گے۔اسی لئے بسا اوقات جب بچوں میں بھی میں دیکھتا ہوں کہ مذاق کے طور پر ان سے کہا جاتا ہے کہ کوئی بات نہیں یوں کہہ دو یا یوں کہہ دو تو اس سے مجھے بڑا صدمہ پہنچتا ہے، بہت تکلیف ہوتی ہے اور میں بچوں کو پیار سے سمجھاتا ہوں کہ مذاق میں بھی جھوٹ کو استعمال نہ کریں۔بچپن میں ہم بھی باتیں بیان کرتے وقت مبالغہ آمیزی میں بھی مبتلا ہو جایا کرتے تھے لیکن اب جب میں نظر ڈال کر دیکھتا ہوں تو میں محسوس کرتا ہوں کہ اس وقت بھی یہ غلطی تھی اور آئندہ نسلوں کو اگر ہم یہ کرنے دیں گے تو یہ بھی غلطی ہوگی۔لطائف میں ، وہ لطائف جو لطائف کی خاطر بیان ہونے ہوتے ہیں ان کا واقعات سے تعلق نہیں ہوتا۔کہانیوں میں جو کہانیوں کی خاطر بیان کی جاتی ہیں ان کا حقائق سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ، سچ اور جھوٹ کے مضمون کا کوئی دخل نہیں ہے اس لئے غلط فہمی سے ان امور کی طرف ابھی توجہ نہ لے جائیں میری مراد یہ نہیں ہے کہ آپ کوئی لطیفہ دوسرے کے سامنے بیان نہ کریں اس خیال سے کہ یہ پتا نہیں سچا تھا یا جھوٹا تھا۔کہانیاں بھی سچ اور جھوٹ کے مضمون سے الگ ہوا کرتے ہیں۔لطائف بھی سچ اور جھوٹ کے مضمون سے الگ ہوا کرتے ہیں۔مگر جب آپ اپنے بھائی ، اپنے دوست کے متعلق لوگوں کو ہنسانے کی خاطر کوئی ایسی بات بیان کرتے ہیں جس میں مبالغے کا پہلو داخل کرنا پڑتا ہے ورنہ لوگ ہنسیں گے نہیں اس کے نتیجے میں آپ دو گنا ہوں کے مرتکب ہو جاتے ہیں ایک تو یہ کہ آپ نے جھوٹ بولا اور جھوٹ سے جونفرت چاہئے اس نفرت کا آپ نے اس طرح خیال نہیں رکھا جس طرح ایک سچے مومن کو رکھنا چاہئے اور جب ایک دفعہ قابل نفرت چیزوں سے تعلقات قائم ہو جائیں تو پھر وہ تعلقات بعض دفعہ خطرناک صورت بھی اختیار کر جایا کرتے ہیں۔پس قابل نفرت چیزیں چھوڑنے کے لئے ہوا کرتی ہیں۔ان کی ہر شکل چھوڑنے کے لئے ہوا کرتی ہے۔تھوڑی بھی چھوڑنے کے لائق ہوا کرتی ہے اور زیادہ بھی چھوڑنے کے لائق ہوا کرتی ہے۔اسی لئے فقہاء نے جو حرمت شراب کا مضمون بیان کیا ہے۔اس میں وہ کہتے ہیں کہ جس چیز کی کثرت آپ کو نشہ پیدا کر دے اس کی قلت بھی حرام ہے۔جس کا زیادہ بُرا ہے اس کا کم بھی حرام ہے۔پس جھوٹ کو حرام چیزوں میں سب سے زیادہ حرام سمجھیں۔شراب جھوٹ کے مقابل پر کوئی بھی حیثیت نہیں رکھتی لیکن عجیب حالت ہے کہ بہت سے ایسے لوگ جو شراب کے تصور سے بھی گھبراتے ہیں اور کسی کو اگر وہ شراب کی عادت میں مبتلا دیکھیں تو سمجھتے ہیں کہ اس کے