خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 286
خطبات طاہر جلد ۸ 286 خطبه جمعه ۵ارمئی ۱۹۸۹ء فائدے کے لئے نکالی گئی تھیں۔کیونکہ تم خالصہ ان کی بہبود کے لئے وقف ہو اور جب تک یہ امت کا رشتہ محمد علی کے ساتھ ہے اس وقت تک تم خیر امت کہلا ؤ گے۔جہاں جہاں ان رشتوں میں رخنے پڑیں گے، جہاں جہاں ان رشتوں میں کمزوریاں واقع ہوں گی وہاں وہاں آپ کا خیر امت ہونا مشکوک اور مجروح ہوتا چلا جائے گا۔آپ فی الحقیقت خیر امت کہلانے کے مستحق باقی نہیں رہیں گے۔پس یہ جمعہ جو ہمارے لئے ایک اور بھی اہمیت رکھتا ہے یعنی احمدیت کی نئی صدی کے پہلے رمضان کا آخری جمعہ ہے۔اس جمعہ میں میں نے سوچا کہ آپ کو یہی نصیحت کروں کہ کلمہ شہادت کے مضمون کو خوب اچھی طرح سمجھ لیں اور اس پر قائم ہو جائیں اور اس مضمون کی اگر چہ تفاصیل میں جانے کا وقت تو نہیں لیکن چند بنیادی باتیں میں آپ کے سامنے ضرور رکھوں گا۔رسالت کی روح اور رسالت کی جان کیا ہے؟ سب سے پہلی چیز اس میں صداقت ہے اور دوسری چیز امانت ہے۔کوئی رسول ، رسول بن نہیں سکتا جب تک وہ خالصہ سچا اور اپنے نفس کی گہرائی میں سچا نہ ہو۔جب تک اس کے وجود کا ذرہ ذرہ سچائی پر مبنی نہ ہو اس وقت تک وہ رسول بننے کا اہل نہیں ہوا کرتا۔اسی طرح اس کے لئے امین ہونا ضروری ہے، امانت دار ہونا ضروری ہے۔کیونکہ دنیا میں جتنے پیغام انسان دوسرے تک پہنچایا کرتا ہے ان پیغاموں میں ان دو بنیادی صفات کا ہونا ضروری ہے ورنہ وہ پیغام بگڑ جایا کرتے ہیں۔پس رسالت کے انتخاب میں اللہ تعالیٰ کی نظر ایسے وجود پر پڑتی ہے جو سچائی میں بھی کامل ہو اور امانت میں بھی کامل ہو اور ان دو پہلوؤں سے حضرت اقدس محمد مصطفی معہ بچپن ہی سے مشہور تھے۔آپ صدوق بھی کہلاتے تھے، صدیق بھی کہلاتے تھے اور امین بھی کہلاتے تھے۔سارا عرب گواہ تھا کہ عرب میں اس سے بڑھ کر سچا بچہ کبھی پیدا نہیں ہوا اور اس سے زیادہ امانت دار بچہ کبھی پیدا نہیں ہوا۔اس لئے بچپن سے بڑی عمر تک پیشتر اس کے کہ آپ کو رسالت عطا ہو آپ عرب میں ایک بچے انسان اور ایک امانت دار یعنی امین انسان کے طور پر مشہور و معروف تھے۔پس حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی وساطت سے آپ کو جو بنی نوع انسان کے ساتھ تعلقات عطا ہونے ہیں ان میں یہ دو تعلقات ایسے ہیں جن کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہے۔اگر جماعت احمد یہ سچائی کو چھوڑ دے اور اپنے چھوٹوں ، اپنے بڑوں ، اپنے مردوں ، اپنی عورتوں میں سچائی کے مضمون کو کثرت کے ساتھ دن رات عام گناہ کرتی رہے تو خطرہ ہے کہ وقت کے گزرنے کے ساتھ