خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 285
خطبات طاہر جلد ۸ 285 خطبه جمعه ۵ رمئی ۱۹۸۹ء کو ملتے ہیں اور آپ کے وسیلے سے آپ کو ملتے ہیں۔اگر یہ وہ تعلقات نہ ہوں تو محض وہ فساد ہے اور کوئی امن نہیں ہے ان تعلقات میں کوئی تسکین کی ضمانت نہیں۔باپ کو بیٹی کے ساتھ جو تعلقات نصیب ہوتے ہیں وہ بھی حضرت محمد مصطفی ﷺ کی رسالت کے وسیلے سے عطا ہوتے ہیں۔باپ کو بیٹے کے ساتھ جو تعلقات عطا ہوتے ہیں وہ بھی اسی وسیلے سے ملتے ہیں۔بیٹیوں کو ماؤں کے ساتھ اور باپوں کے ساتھ اور بہنوں کو بھائیوں کے ساتھ اور بھائیوں کو بھائیوں کے ساتھ اور بہنوں کے ساتھ۔چچا زاد بھائیوں کے تعلقات ہوں یا خالہ زاد بھائیوں کے تعلقات ہوں یا قریب کے رشتوں کے تعلقات ہوں یا دور کے رشتوں کے تعلقات ہوں۔خاندانی تعلقات کو جتنا چاہیں آپ پھیلا لیں ہر تعلق میں آپ کے لئے رسالت کی طرف سے ایک پیغام ہوگا اور ان تعلقات کا ایک تصور آپ کے سامنے رکھا گیا ہے۔پھر وہ تعلقات رشتوں سے باہر نکل جائیں اور مالک اور مملوک کے درمیان ہوں ، آقا اور ملازم کے درمیان ہوں یا ایک انسان کے دوسرے انسان کے ساتھ ہوں ، محلہ داری کے تعلقات ہوں یا شہری حقوق سے تعلق رکھنے والے تعلقات ہوں، بین الاقوامی تعلقات ہوں۔اب اس مضمون کو جتنا چاہیں پھیلاتے چلے جائیں زمین کے کناروں تک نظر ڈال لیں وہی تعلقات آپ کو صحیح تعلقات دکھائی دیں گے جو حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی رسالت کے وسیلے سے آپ کو عطا ہوتے ہیں۔پس لا الہ کا مضمون پہلے ساری دنیا کو باطل کر کے آپ کی نظر سے غائب کر دیتا ہے۔الا اللہ کا مضمون آپ کو خدا کی طرف لوٹاتا ہے اور خدا کے سوا اور کوئی ہستی باقی نہیں رہتی۔پھر خدا کی طرف سے آپ کو دنیا میں ایسے رستے سے لٹایا جاتا ہے جو رسالت کا رستہ ہے اور اس رستے سے جو نئے تعلقات عطا ہوتے ہیں اسی کا نام جنت ہے۔تمام دنیا میں جتنی بھی خرابیاں ہیں وہ ان تعلقات کو چھوڑ کر ان سے الگ تعلقات قائم کرنے کے نتیجہ میں ہوا کرتی ہیں۔اب یہ مضمون تو بہت ہی وسیع ہے۔اس کی تفاصیل میں تو میں یہاں نہیں جاسکتا لیکن میں آپ کو یہ بتا تا ہوں کہ جب تک ہم کلمہ توحید اور کلمہ شہادت کے اس مضمون کا عرفان حاصل کر کے اپنی زندگیوں میں ایک نیا انقلاب پیدا نہیں کرتے ہم بنی نوع انسان کے لئے وہ مفید وجود نہیں بن سکتے جس کی خاطر ہمیں پیدا کیا گیا ہے۔كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ (آل عمران : 1) اے محمد مصطفی ﷺ کی امت ان تمام امتوں میں سب سے بہتر ہو جو آج تک بنی نوع انسان کے