خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 284
خطبات طاہر جلد ۸ 284 خطبه جمعه ۵ رمئی ۱۹۸۹ء میں نے آپ کے سامنے کلمہ توحید اور کلمہ شہادت کا مضمون چھیڑا تھا۔میں نے ذکر کیا تھا کہ لا اله الا اللہ میں پیغام یہ ہے کہ اللہ تک پہنچنے سے پہلے اپنے ماحول، اپنے گردو پیش، اپنی دنیا کے سارے تعلقات اور سارے نظریات کو کالعدم کرنا پڑتا ہے اور جب کلیۂ ہر دوسری چیز پرفتا آ جائے گویا کائنات انسان کے لئے باقی نہ رہے تب وہ خدا تک پہنچنے کا اہل بنتا ہے اور تب حقیقت میں پورے عرفان کے ساتھ وہ الا اللہ کا نعرہ لگا سکتا ہے۔گویا ساری دنیا سے وہ منقطع ہو جاتا ہے اور دنیا کا کچھ بھی اس کے لئے باقی نہیں رہتا اور سوائے ایک خدا کی ذات کے اس محو کچھ اور دکھائی نہیں دیتا۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا انسان اس کے بعد پھر اسی طرح زندگی گزارتا ہے اور کیا پھر اس کے دنیا کے ساتھ تعلقات کبھی بحال نہیں ہوتے؟ اس کا جواب ان محمدا عبدہ ورسولہ میں ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ جب انسان اللہ تعالیٰ کی طرف تبتل اختیار کر لے اور تمام دیگر کائنات کے وجود کو لذیذ دیکھتے ہوئے بھی محض ایک خیال اور واہمہ شمار کرنے لگے۔جب اپنے تعلقات کے سارے دائرے اپنی ذات سے الگ کر دے اور سارے رشتے منقطع کر دے۔اس کے بعد پھر وہ دنیا کی طرف کیسے رجوع کرے؟ اس کا جواب اس میں ہے کہ اشهد ان لا اله الا الله وحده لا شريك له و اشهد ان محمدا عبده ورسولہ۔دنیا کے دوبارہ جو تعلقات قائم ہوتے ہیں وہ رسالت کے ذریعے قائم ہوتے ہیں اور تعلقات کا ایک نیا مضمون پیدا ہوتا ہے۔رسالت کے بغیر جو دنیا کے تعلقات ہیں ان کی کوئی بھی حقیقت نہیں۔وہ محض فساد ہیں، وہ محض بنی نوع انسان کے تمام تعلقات کے دائروں میں فساد پیدا کرنے کا ذریعہ ہیں اور رسالت کے بغیر بنی نوع انسان کے تعلقات خواہ وہ فرد فرد کے درمیان ہوں یا قوموں اور قوموں کے درمیان ہوں ان کی فساد کے سوا اور کوئی بھی حقیقت نہیں رہتی۔پس رسالت کے مضمون کو نکالتے ہی تمام دنیا فساد اور ظلم سے بھر جاتی ہے۔پس جب آپ اللہ تک پہنچتے ہیں اور گردو پیش اور ماحول کو کلیۂ مٹا کر نابود کر دیتے ہیں پھر خدا دوبارہ آپ کو اس دنیا کی طرف واپس بھیجتا ہے مگر رسالت کے واسطے سے۔حضرت اقدس محمد مصطفی علیہ کے وسیلے سے اس سے پہلے بھی مختلف رسول وسیلہ بنے مگر آج اگر کوئی وسیلہ ہے تو صرف حضرت اقدس محمد مصطفی ملے ہیں۔پس ہمیں نئے تعلقات عطا ہوتے ہیں اور اس مضمون پہ جب آپ غور کریں تو آپ حیران رہ جائیں گے کہ خاوند کے بیوی سے تعلقات بھی وہی تعلقات ہیں جو محمد رسول اللہ ﷺ کی وساطت سے آپ