خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 278
خطبات طاہر جلد ۸ 278 خطبه جمعه ۲۸ / اپریل ۱۹۸۹ء یہ مضمون کہنے میں آسان ہے لیکن اسے ایک عارف باللہ ہی حقیقت میں بیان کرسکتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام واقعہ خدا میں نہاں ہو جایا کرتے تھے کیونکہ آپ کے ساتھ غیر اللہ کا تعلق باقی نہیں رہا تھا۔غیر اللہ سے جڑے ہوئے آپ کس طرح خدا میں نہاں ہو جائیں گے؟ اور جب تک آپ خدا میں نہاں نہ ہوں گے غیروں کے واروں سے آپ بچ نہیں سکتے۔غیروں کے حملے سے آپ پناہ میں نہیں آسکتے۔آپ کے وجود کا کچھ نہ کچھ حصہ اس محفوظ فصیل سے باہر رہ جائے گا جو خدا کی حفاظت کی فصیل ہے۔پس آج سب سے زیادہ ضرورت ہے کہ ہم تو حید کے مضمون کو خوب اچھی طرح سمجھیں اور اس رمضان مبارک میں کثرت کے ساتھ یہ دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنا کامل موحد بندہ بنا دے اور تمام جماعت کے لئے بھی یہی دعائیں کریں۔اس دعا میں ساری دعا ئیں آجاتی ہیں۔اس دعا میں اپنے مظلوم بندوں کی حفاظت کی دعا بھی آجاتی ہے۔کیونکہ آپ ان کی حفاظت نہیں کر سکتے۔آپ جو چاہیں کر لیں آپ میں طاقت نہیں ہے۔اگر آپ میں طاقت ہوتی تو ان ظالموں کو جرات نہ ہوتی کہ آپ کے بھائیوں کو اس قسم کے دکھ دیں اور اس قسم کی تکلیفیں پہنچائیں۔پس ایک ہی راہ ہے آپ ان کی حفاظت کے لئے ایک ہی اقدام ہے جو کر سکتے ہیں کہ ان کے لئے تو حید کامل کے حصول کی دعا کریں اور خود موحد کامل بن جائیں کیونکہ اگر آپ موحد کامل بن جائیں گے تو آپ کی ہر درد کی پکار آسمان پر سنی جائے گی۔آپ کی ہر التجاء مقبول ہوگی یہ ممکن نہیں ہے کہ ان کے دکھوں کا دکھ جو آپ کے دل کو حاصل ہو گا اس پر خدا رحمت اور شفقت کی نگاہ نہ کرے۔بارہا میں نے دیکھا ہے کہ ایسے ایسے خوفناک مصائب یوں آنا فا نائل جاتے ہیں جیسے بعض دفعہ آندھیاں بادلوں کو بکھیر دیا کرتی ہیں۔اگر دل میں ایک شدید درد کی لہر دوڑے اور انسان اس کو محسوس کر لے کہ خدا کی رحمت کی نظر اس پر پڑ گئی ہے۔بعض دفعہ ابتلاء کچھ دیر لیے بھی ہو جایا کرتے ہیں۔یہ بھی الگ مضمون ہے لیکن جو موحد ہو جائے پھر وہ اس بات سے بے نیاز ہو جایا کرتا ہے کہ جلدی سنی گئی ہے یا دیر میں سنی گئی کیونکہ یہ بھی ایک تو حید ہی کی علامت ہے۔توحید میں سپردگی کا مضمون ہے نہاں ہونے کا مضمون ہے۔جب آپ اپنے وجود کو خدا کے سپرد کر دیتے ہیں پھر اس پر چھوڑ دیتے ہیں۔پھر جانتے ہیں کہ اب جو کچھ بھی ہونا ہے خدا تعالیٰ کی اعلیٰ اور باریک دربار یک حکمتوں کے نتیجے میں ہونا ہے اور وہ بہتر سمجھتا ہے کہ کس طرح