خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 270
خطبات طاہر جلد ۸ 270 خطبه جمعه ۲۸ / اپریل ۱۹۸۹ء ان کی اہمیت اتنی ثانوی رہے۔ثانوی کا لفظ بھی پوری طرح اس پر اطلاق نہیں پاتا اگر ان کی اہمیت ، اہمیت کے باوجود اتنی بے حیثیت ہو کہ وہ ہو یا نہ ہوا گر خدا آپ کے ساتھ ہے تو آپ کو اس کا کوئی فرق نہ پڑے۔یہ مضمون اگر ہر ابتلاء کے وقت ہر اس موقع پر جب آپ نے دو چیزوں میں سے ایک اختیار کرنی ہے آپ کے ذہن میں نمایاں ہو کر ابھرتا ہے اور کامل یقین کے ساتھ آپ ایک فیصلہ کرتے ہیں کہ میرا انحصار اس چیز پر نہیں ہے، میرا انحصار خدا پر ہے تو اس حصے سے آپ کی خدا کی طرف ہجرت ہو جاتی ہے۔یہ ہجرت کا مضمون جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے اتنا آسان نہیں ہے۔اکثر انسان اس کو تفصیل کے ساتھ اپنی زندگی کے تجارب پر وارد ہی نہیں کر سکتے اور بہت سے خوش نصیب ایسے ہیں جو یہ مضمون سمجھتے ہیں اور آہستہ آہستہ موحد بننے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں لیکن ان کے لا الہ کا دائرہ اپنے قریب کے دائرے سے باہر رہتا ہے۔دور کے علاقوں میں تو لا الہ کا مضمون ان کو دکھائی دینے لگ جاتا ہے مگر جتنا اپنے ماحول کے قریب آتے ہیں اتنا ہی اللہ نظر آنے شروع ہو جاتے ہیں اگر وہ دیکھنا چاہیں تو۔مثلاً کسی بہت ہی پیارے کی جدائی کا صدمہ ہے بعض ماؤں کے اکلوتے بچے فوت ہو جاتے ہیں اس وقت در حقیقت ان کی توحید آزمائی جاتی ہے۔صدمہ ضرور ہوتا ہے جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے کسی چیز سے تعلق رکھنا یہ اس بات کے خلاف نہیں ہے کہ انسان موحد ہو کسی سے تعلق رکھنا بے نیازی کے مضمون کے مخالف نہیں ہے۔ورنہ خدا کا کائنات میں کسی چیز سے کوئی تعلق نہ رہے لیکن اس تعلق کے وقت جہاں ایک خلا پیدا ہوتا ہے کیا وہ خلا خدا بھر دیتا ہے یا نہیں؟ یہ مضمون ہے جس کو سمجھنے کی ضرورت ہے اور یہی وہ مضمون ہے جو انبیاء علیہم السلام کو عظیم الشان صبر عطا کرتا ہے اور فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (الاعراف:۳۶) کا یہی دراصل مضمون ہے۔یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ انبیاء پر خوف کے وقت نہ آئیں؟ خوف کے وقت تو آتے ہیں۔حضرت اقدس محمد مصطفی ملے پر بھی بڑے بڑے خوف کے وقت آئے اور حزن کے وقت بھی آئے اور بعض احادیث سے پتا چلتا ہے کہ آپ نے خود فرمایا کسی بات پر کہ اس وجہ سے میں محزون ہوں لیکن قرآن کریم اعلان کر رہا ہے فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ تو اس سے مراد کیا ہے؟ اس سے مراد یہی ہے کہ کوئی خوف ایسا ان کی زندگی پر نہیں آتا جو ان کو مغلوب کر لے کیونکہ ہر خوف کے وقت خدا ان کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔ہر خلا کو پُر کرنے کے لئے خدا تعالیٰ کی ہستی ہر لمحہ ہر آن ان