خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 269
خطبات طاہر جلد ۸ 269 خطبه جمعه ۲۸ اپریل ۱۹۸۹ء ہر سانس خدا کی طرف ہجرت کر رہا ہوں۔اس کا توحید سے کیا تعلق ہے؟ دراصل اس کا توحید سے بڑا گہرا تعلق ہے اور تو حید کا جو پہلا اعلان ہے ، اعلان کا پہلا حصہ ہے اس کے اوپر اس مضمون سے روشنی پڑتی ہے۔آپ کہتے ہیں لا اله الا اللہ پہلے لا اللہ کا اعلان ہے پہلے اللہ کے ثبات کا اقرار نہیں۔لا اللہ کے بغیر اللہ تک پہنچنا ممکن ہی نہیں ہے اور لا الہ کا مضمون یہ ہے کہ انسان ہر غیر اللہ کو پہلے کا لعدم کر دے اور جب مصنوعی خدا مرنے لگیں اور ان کا خلا پیدا ہونا شروع ہو جائے تو کائنات میں ہر سمت میں سوائے خلا کے اور کچھ دکھائی نہیں دے گا اور سہارے کے لئے خدا کی ذات کے سوا کچھ باقی نہیں رہے گا۔یہ ہے توحید خالص اور ہجرت کا مضمون یہ ہے کہ باری باری انسان اپنے نفس پر غور کرتے ہوئے ، اس کا محاسبہ کرتے ہوئے ان تمام موجودات سے بے نیاز ہوتا چلا جائے جن کی طرف وہ مشکل کے وقت اور ضرورت کے وقت جھکا کرتا ہے۔ویسے تو خدا کی کائنات سے کوئی بے نیازی ممکن نہیں لیکن یہ ایک معنوی کیفیت ہے یعنی ظاہری طور پر بے نیاز نہ ہوتے ہوئے بھی حقیقی اور عارفانہ طور پر ایک انسان ایک چیز سے بے نیاز ہوسکتا ہے۔بسا اوقات انسان کسی چیز سے تعلق رکھتا ہے لیکن وہ چیز اگر اس سے تعلق تو ڑلے تو اس کو کوئی بھی فرق نہیں پڑتا۔ان معنوں میں خدا تعالیٰ بے نیاز ہے۔ان معنوں میں بے نیاز نہیں کہ اس کا کسی چیز سے تعلق نہیں۔تو جب خدا کا اپنی کا ئنات کے ہر ذرے اور ہر وجود سے ایک گہرا تعلق ہے تو ہم اسے بے نیاز کیسے کہہ سکتے ہیں؟ انہی معنوں میں کہ وہ چیز اگر خدا سے روگردانی کرے، اس سے تعلق توڑے تو خدا تعالیٰ کی ذات کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔پس انہی معنوں میں انسان کو تمام کائنات کے ہر وجود سے بے نیاز ہونا پڑتا ہے تب لا الہ کا مضمون پیدا ہوتا ہے۔ورنہ تو ہر طرف الہ ہی اللہ آپ کو دکھائی دیں گے۔اتنے اللہ ہیں کہ آپ ان کا شمار ہی نہیں کر سکتے ، آپ کے دلوں میں بھی پیدا ہونے والے ہیں ، آپ کے ماحول میں بھی پیدا ہونے والے ہیں۔ہر طرف آپ کو الهوں کا ایک انبار نظر آئے گا، ایک ہجوم کثیر دکھائی دے گا، ایک انبوہ کثیر دکھائی دے گا نہ ختم ہونے والا لیکن بطور اللہ کے آپ ان کو پہچانتے نہیں اور واقعہ یہ ہے کہ یہ بھی ضروری نہیں کہ آپ بطور الہ کے ان کو اہمیت دیں لیکن جب بھی ابتلا آئے اور جب بھی مشکل وقت پڑتے ہیں اس وقت انسان کے ذہن میں ان کی اہمیتیں ابھرنے لگتی ہیں۔اس میں بھی کوئی حرج نہیں یہ بھی شرک نہیں لیکن اگر