خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 245
خطبات طاہر جلد ۸ 245 خطبه جمعه ۱۴ اپریل ۱۹۸۹ء یہ فیصلہ تو جب بھی ہوگا میں جماعت کو مطلع کر دوں گا لیکن وہ آیات جو فرعون کے متعلق میں نے پڑھی ہیں ان کو پڑھنے کے بعد اور بعض حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات کی روشنی میں سردست میرا رجحان یہی ہے کہ میں جماعت کو مزید صبر کی تلقین کروں کیونکہ قرآن کریم میں بارہا فرعون کا ذکر تو ملتا ہے اور اس کے مظالم کا ذکر ملتا ۔ کے مظالم کا ذکر ملتا ہے لیکن کہیں بھی اس کے مقابل پر حضرت موسی کو اور آپ کی قوم کو دفاعی حق استعمال کرنے کی تلقین نہیں ملتی اس میں کوئی حکمت ہے۔ ہاں جب اس کے ظلم کے پنجوں سے حضرت موسیٰ اور آپ کے غلام آزاد ہو گئے تو پھر خدا نے ان کو بعض دفاعی حق دیئے بلکہ بعض دفعہ یہ حق ان پر فرض کئے گئے ۔ اس لئے اگر یہ وہی دور ہے جس کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات میں ذکر ملتا ہے تو پھر میرا رجحان اسی طرف ہے لیکن ابھی غور ہوگا، دعائیں ہوں گی ، مشورے ہوں گے اور جو بھی آخری فیصلہ ہو گا مجھے یقین ہے کہ خدا تعالیٰ کی رضا کا حامل ہوگا اور جماعت اس پر قائم رہے گی۔ میں یہ فیصلہ اس لئے نہیں کر رہا کہ مجھے جماعت کی طرف سے بزدلی کا خوف ہے ہر گز نہیں ۔ میں احمدیوں کو خوب جانتا ہوں وہ میرے دل میں بس رہے ہیں ان کے دل کی سرسراہٹ میرے دل میں محسوس ہو رہی ہے۔ میں جانتا ہوں کہ یہ وہ وفادار ہیں جو صلى الله علیہ حضرت محمد مصطفی ﷺ کے غلاموں کی یاد تازہ کرنے والے ہیں۔ آ صلى الله عروسه -- آنحضرت ﷺ پر ایک ایسا وقت بھی آیا تھا جیسا بعد بعد : میں یعنی فرعون کے ظلموں سے آزاد ہونے کے کے بعد حضرت موسی" پر بھی آیا یعنی تلوار سے اپنے دفاع کی اور مقابلے کی اجازت دی گئی تھی۔ حضرت موسی پر جب وہ وقت آیا تو بد قسمتی سے ان کی قوم نے آپ کو مخاطب کر کے یہ کہا مُوسَی اِنَّا لَنْ نَّدْ خُلَهَا أَبَدًا مَّا دَامُوا فِيهَا فَاذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هُهُنَا فَعِدُونَ (المائدہ:۲۵) کہ تیرے خدا نے بے شک تجھے یہ پیغام دیا ہے کہ قوت کے ساتھ اس شہر میں داخل ہو جاؤ جو خدا تمہیں عطا کرنے والا ہے لیکن چونکہ وہ واقعہ کمزور تھے اور خدا کی تائید کی عظمت سے ناواقف تھے، ناشناسا تھے اس لئے انہوں نے ظاہر میں دیکھا کہ طاقتور قوم کے مضبوط قلعہ میں ایک کمزور اور بیابانوں میں صحرا نورد جماعت کو داخل ہونے کا حکم دیا جا رہا ہے۔ ان کے قدم اس سے رک گئے اور انہوں نے جواباً یہ کہا کہ اے موسیٰ جا تو اور تیرا خدا لڑو ہم بیٹھ کے انتظار کرتے ہیں جب تم فتح پا جاؤ گے تو پھر ہمیں آواز دے دینا پھر ہم تمہارے پیچھے پیچھے شہر میں داخل ہو جائیں گے۔