خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 219 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 219

خطبات طاہر جلد ۸ 219 خطبہ جمعہ ۷ ۷ اپریل ۱۹۸۹ء چلا جائے کہ سیری ہو جائے اور پھر طبعا اس کا دل کھانے سے پھر جائے بلکہ ہمیشہ ایسی حالت میں کھانا چھوڑے کہ ابھی کچھ اشتہاء باقی ہو۔یہ ہے وَلَا تُسْرِفُوا کی وہ تفسیر جو حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلى الله نے ہمارے سامنے بیان فرمائی۔نہایت ہی حسین تفسیر ہے اور علم طب کے لحاظ سے اس سے بہتر مشورہ انسان کو نہیں دیا جا سکتا کھانے پینے کے معاملات میں۔کیونکہ امر واقعہ یہ ہے کہ جب ہم سیر ہوتے ہیں اس سے کچھ عرصہ پہلے جب کہ ابھی بھوک باقی ہوتی ہے ہمیں اپنی ضرورت کا کھانامل چکا ہوتا ہے اور جو درمیان کا وقفہ ہے تھوڑا سا اس میں جسم کو مہیا شدہ کھانا جو جسم کے اندر داخل ہو چکا ہے وہ مل تو چکا ہوتا ہے لیکن اس کی اطلاع جسم کے دوسرے نظام تک ابھی نہیں پہنچی ہوتی اس لئے کہ وہ میٹھے میں تبدیل ہو کر دوسری بعض چیزوں میں محلول ہو کر ا بھی جسم کو پوری طرح یہ مطلع نہیں کرتا کہ ہاں تمہاری ضرورت پوری ہو چکی ہے۔جب ایسی حالت میں انسان کھانا چھوڑ دیتا ہے کہ ابھی کچھ بھوک باقی ہے تو تھوڑی دیر میں یہ تھوڑا سا جو وقت لگتا ہے اطلاعیں پہنچنے کا وہ مکمل ہو جاتا ہے اور اس وقت انسان کو معلوم ہوتا ہے کہ میں بھوکا نہیں اٹھا بلکہ میں پوری طرح سیر ہو چکا ہوں۔اگر سیر ہو کر کھانا کھالے یعنی اپنی اطلاع کے مطابق جو براہ راست مل رہی ہے اس کو، تو دراصل وہ کچھ زیادہ کھا چکا ہوتا ہے اور اس کے بعد جو بوجھ پڑتا ہے طبیعت میں اور کسل پیدا ہو جاتا ہے اور انسان اب سمجھتا ہے کہ میں کچھ دیر کام کے قابل نہیں رہا یہ اس حکم کی نافرمانی کے نتیجے میں ہے۔پس اگر اس حکم کے اندر رہتے ہوئے یعنی وَلَا تُسْرِفُوا کو پیش نظر رکھتے ہوئے انسان روز مرہ کھانا کھائے تو ہرگز اس کے لئے نقصان کا موجب نہیں ہے۔جب یہ بھی چھوڑ دے تو اپنے لئے تو نہیں چھوڑ رہا۔خدا کی خاطر چھوڑ رہا ہے۔اسی طرح روز مرہ کی عبادتوں کے لئے جو اس نے وقت مقرر کیا ہوا ہے وہ اس کے لئے موزوں اور مناسب ہے اس کی جسمانی صحت کے لئے بھی اس کی روزمرہ کی عادات کے لئے بھی ضروری ہے کیونکہ لفظ صلوۃ میں ورزش کا معنی بھی پایا جاتا ہے۔آپ پانچ وقت جب وضو کرتے ہیں، کلی کرتے ہیں، حوائج سے فارغ ہوتے ہیں اور یہ ساری چیزیں آپ کی ذات آپ کی صحت پر ایک نمایاں اثر پیدا کر رہی ہوتی ہیں۔پھر اس کے بعد عبادت میں آپ کو اٹھنا بیٹھنا پڑتا ہے مختلف شکلوں میں جسم کو مروڑ نا تر وڑنا پڑتا ہے۔جن لوگوں کو پانچ وقت اسلامی نماز کی عادت نہ ہو ان کے اعضاء میں کئی پہلو سے سختی پیدا ہو جاتی ہے۔چنانچہ میں نے دیکھا ہے بعض نو مسلم جب آکر بیٹھتے ہیں تو بڑی مصیبت