خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 208 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 208

خطبات طاہر جلد ۸ 208 خطبہ جمعہ ۳۱ / مارچ ۱۹۸۹ء سے رابطے قائم کرنے کی سکیمیں بنائی جائیں۔اس سلسلے میں سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ ساری دنیا میں ہم غیر اسلامی دنیا سے رابطہ پیدا کرنے کی جو سکیمیں بنا چکے ہیں، جو ارادے باندھ چکے ہیں، جو تیاریاں مکمل کر چکے ہیں ان سے یہاں بھی فائدہ اٹھانا چاہئے۔انگلستان میں وسیع پیمانے پر ایسا لٹریچر شائع ہو چکا ہے جس کو تمام انگلستان کے مختلف حصوں میں نئے نئے لوگوں تک پہنچایا جائے گا تا کہ احمدیت میں اور اسلام میں دلچسپی کی نئی راہیں کھلیں۔اس لٹریچر سے بہت حد تک یہاں بھی استفادہ کیا جا سکتا ہے۔جہاں تک میرا علم ہے آئرش زبان اتنے وسیع پیمانے پر یہاں نہیں بولی جاتی جتنا انگریزی زبان بولی جاتی ہے۔اگر چہ تلفظ میں فرق ہے لیکن بنیادی طور پر زبان وہی ہے اور تحریری زبان کے لحاظ سے قطعا کوئی فرق نہیں۔اسی طرح یہ علاقہ جہاں ہم نے مشن قائم کیا ہے اگر چہ یہ آئرش زبان بولنے والا علاقہ کہلاتا ہے لیکن یہاں بھی ہر فرد کو ہر بڑے چھوٹے کو انگریزی پر پورا عبور حاصل ہے۔صرف تلفظ میں فرق ہونے کی وجہ سے بعض دفعہ سمجھنے میں دقت پیدا ہوتی ہے تو ان لوگوں تک انگریزی لٹریچر کا پہنچانا یہ کوئی ایسا کام نہیں جس کے لئے آپ کو کوئی تیاری کرنی پڑے۔یعنی لٹریچر شائع کرنے کی تیاری کرنی پڑے۔لٹریچر کثرت سے موجود ہے، خصوصیت کے ساتھ صد سالہ جوبلی کے پروگرام کے تابع قرآن کریم کے چیدہ چیدہ اقتباسات انگریزی ترجمے کے ساتھ کثرت سے شائع کئے جارہے ہیں۔احادیث نبویہ کے چیدہ چیدہ اقتباسات کثرت کے ساتھ جس طرح دوسری زبانوں میں شائع کئے جارہے ہیں انگریزی زبان میں بھی شائع کئے جارہے ہیں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اقتباسات اسی طرح انگریزی زبان میں بکثرت شائع کئے جارہے ہیں۔ابھی دو تین دن کی بات ہے ایک دوست نے مجھے خط میں یہ مطلع کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اقتباسات میں پڑھ کر اپنے بعض دوسرے دوستوں کو سنارہا تھا جو انگریزی دان تھے تو ایک شخص تو وجد میں جھو منے لگ گیا۔اس نے کہا ایسا پاکیزہ ، ایسا اعلی، ایسا سچائی پر مبنی ہسچائی میں گوندھا ہوا کلام ہے کہ سیدھا میرے دل میں اُترتا چلا جا رہا ہے اور وہ کلام سوائے قرآن اور حدیث کے کسی اور چیز پر مبنی نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کلام کی خوبی یہ ہے کہ کلیۂ قرآن اور حدیث کے مضمون پر مشتمل ہوتا ہے اور اس کی وہ تفاصیل دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے جس کی اس زمانے کو