خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 201
خطبات طاہر جلد ۸ 201 خطبه جمعه ۲۴ / مارچ ۱۹۸۹ء اللہ دن بدلے اور موسم تبدیل فرمادے اور جلد از جلد ہمارا ملک اس قسم کی خوستوں سے آزاد ہو اور خدا کی رحمتوں اور برکات کا موجب بنے۔پس اور اگر آپ کا تعلق اس ملک سے نہیں تو میری خاطر جس کے ہاتھ پر آپ نے بیعت کی ہے میرے تعلق کی خاطر مجھ پر رحم کرتے ہوئے میرے ملک کے لئے بھی دعا کریں۔اللہ تعالیٰ آپ کا حامی و ناصر ہو۔خطبہ ثانیہ کے دوران فرمایا: - ایک ذکر میں بھول گیا تھا جو مجھے بہت عزیز ہے یعنی اسیران راہ مولیٰ کا ذکر۔ہم نے دعائیں کیں ، گریہ وزاری کی کہ اے خدا اگلی صدی کے آغاز سے پہلے ان کے بندھن ٹوٹ جائیں اور وہ بھی ہماری طرح آزادی کے سانس لیتے ہوئے ہماری خوشیوں میں شریک ہوں لیکن وہ مالک ہے ہم ادنی بندے ہیں۔ابھی خدا کی تقدیر کو شائد یہ منظور نہیں تھا لیکن آپ یہ دعا ئیں ضرور جاری رکھیں۔آج نہیں تو کل کل نہیں تو پرسوں خدا کی تقدیر کا حکم دنیاوی احکام پر غالب ضرور آئے گا اور مجھے ہرگز مایوسی نہیں ہے کہ خدا تعالیٰ غیر معمولی سامان ایسے پیدا فرمائے گا کہ ہمارے عزیز مظلوم بھائی جو تمام احمدیت کی نمائندگی کے طور پر اسیری کی مشقتوں میں سے گزررہے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کے یہ بوجھ بھی آسان فرما دے ان کو تسکین قلب عطا کرے، ہر مشکل ان کے لئے ہلکی کر دے اور پھر ان زنجیروں کے ٹوٹنے کے سامان پیدا کرے۔بظاہر زنجیریں تو انہوں نے پہن رکھی ہیں لیکن ان زنجیروں کی بندش ،اس کی تنگی ہمارے دلوں کو محسوس ہو رہی ہے۔اس لئے جب تک وہ زنجیریں نہیں ٹوٹیں گی اس وقت تک ہمارے دلوں کی یہ تنگی کا احساس مٹ نہیں سکتا یہ نہیں ٹوٹ سکتا۔تو دعا کریں ان کی خاطر نہیں تو اپنی خاطر ہی کریں لیکن میں جانتا ہوں کہ ہم اگر تکلیف محسوس بھی کر رہے ہوں گے تو اس تکلیف کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ہمیں سعادتیں مل رہی ہیں اور یہ تکلیف اپنی ذات میں معزز تکلیف ہے۔اس لئے فی الحقیقت کوئی سچا انسان بھی اپنی تکلیف دور کرنے کی خاطر نہیں اپنے بھائی کی تکلیف کو دور کرنے کی خاطر یہ دعائیں کرے گا۔اس لئے آپ خالصہ اللہ اپنے ان عزیز بھائیوں کو جس طرح پہلے دعاؤں میں یاد رکھتے آئے ہیں مزید دعاؤں میں یاد رکھیں اور امید رکھیں اور یقین رکھیں کہ اللہ تعالیٰ ضرور مناسب وقت پر جب خدا کی تقدیر فیصلہ کرے گی ان دعاؤں کو سنے گا اور انشاء اللہ ان بھائیوں کی قید کی زنجیریں لازما توڑی جائیں گی۔اللہ وہ دن جلد تر ہمیں دکھائے۔آمین۔