خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 187
خطبات طاہر جلد ۸ 187 خطبه جمعه ۲۴ / مارچ ۱۹۸۹ء تیل کو جس کو آپ بے تکلفی سے آج پھونک دیتے ہیں اس کو تیار کرنے پر ان گنت زندگیاں قربان کی گئیں۔ان گنت زندگیوں کی قسمیں قربان کی گئی ہیں اور ایک بہت ہی لمبے عرصے پر جس کے اوپر ہمارا ذہن منتج نہیں ہو سکتا اس تک پہنچ نہیں سکتا خواہ ہم ہندسوں میں اس کی باتیں کرلیں مگر ہمارے تصورات اتنے محدود ہیں کہ فی الحقیقت ہم اس لمبائی کا اندازہ نہیں کر سکتے۔اتنے لمبے عرصے پر پھیلے ہوئے خدا تعالیٰ کی قدرت تیل کے چشموں کے لئے تیاری کر رہی تھی اور آج ہم بیٹھتے ہیں ایک گیلکن تیل لیا اس کو پھونکا اور خیال بھی نہیں کرتے کہ یہ تیل کیسے بنا کیوں ہمارے ہاتھ آیا اور یہ خزانہ خدا نے کب سے ہمارے لئے بچا کر رکھا ہوا تھا ؟ تو ایک بات نہیں دو نہیں تین نہیں لاکھوں کروڑوں اربوں انگنت باتیں ہیں جن کے ذکر کی بھی انسان کو مجال نہیں اور طاقت نہیں کیونکہ قرآن کریم فرماتا ہے کہ میرے کلمات ایسے لامحدود ہیں، ایسے انگنت ، اتنے بے پناہ ہیں کہ اگر سمندر سیاہی بن جائیں اور ان کلمات کو لکھنا شروع کیا جائے تو سمندرسوکھ جائیں گے لیکن ان کلمات کا ذکر ختم نہیں ہوگا اور اگر اور بھی ویسے سمندر ان کی مدد کے لئے آجائیں وہ سمندر بھی خشک ہو جائیں گے لیکن میرے کلمات کا ذکر کبھی ختم نہیں ہوگا۔پس یہ وہ خدا ہے جس کے احسانات کے تابع ہم ہیں اور ہم جب کہتے ہیں کہ انگنت احسانات ہیں بارش کی طرح اس کے فضل نازل ہوتے ہیں تو ہم جانتے ہیں کہ ہم درست کہہ رہے ہیں اس میں کوئی مبالغہ نہیں۔ایک قطرے کا مبالغہ بھی اس میں نہیں ہے۔خدا تعالیٰ کی رحمتوں کی بارشوں نے ایک سو سال تک جماعت احمدیہ پر ہر قسم کے فضل نازل فرمائے۔اک قطرہ اس کے فضل نے دریا بنا دیا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ میں قطرہ تھا اس کے فضل نے دریا بنا دیا اور ایک خاک کا ذرہ تھا جسے خدا نے ثریا بنا دیا ہے۔پس آج جو ایک کروڑ احمدی اس دنیا میں بس رہے ہیں یہ اسی قطرے کے بنے ہوئے دریا ہیں۔پس اگر آپ خدا تعالیٰ کے احسانات کے ہر قطرے پر شکر ادا کرنے کا سلیقہ سیکھ جائیں گے تو آپ میں سے ہر ایک قطرہ یہ صلاحیت رکھتا ہے کہ اگلی صدی کے آغاز سے پہلے ایک ایک کروڑ بن جائے اور اگر زمین پر آپ کے پھیلنے کی جگہ نہیں ہو گی تو اس صدی کا خدا آسمان میں وسعتیں عطا کرے گا اور آسمان میں آپ کے پھیلنے کے لئے گنجائشیں نکالی جائیں گی۔زمانہ بڑی تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے اور ہم نہیں جانتے کہ آئندہ کیا