خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 186
خطبات طاہر جلد ۸ 186 خطبه جمعه ۲۴ / مارچ ۱۹۸۹ء میں ڈالتا ہوں پھر اس سے پہلے کی طرف میری توجہ منتقل ہو جاتی ہے پھر میں سوچتا ہوں کہ صرف ایک میٹھا ہی تو نہیں ہے اور بھی اجزاء ہیں اس کے وہ لکڑیاں بھی تو ہیں جن سے آگ جلائی گئی اور وہ چنے بھی تو ہیں یا مکئی یا جو بھی اس لڑو میں بطور نشاستہ کے ڈالا گیا کہ وہ سب چیزیں تھیں پھر ان کے اوپر کیا کیا گزری پھر کس کس طرح کس کس وقت زمیندار اٹھے اور پو پھٹتے وہ کندھوں پر بل لے کر روانہ ہوئے کھیتوں کی طرف اُن کی حفاظت کس طرح کی گئی۔اتنا وسیع مضمون اس ایک دانے کے ساتھ منسلک ہو گیا کہ وہ گھنٹہ تو لڈو ختم کرنے میں لگا لیکن گھنٹوں مزید درکار تھے اس مضمون کی تفصیل سے پیروی کرنے اور اس کو اپنے دل پر عرفان کی صورت میں جاری کرنے میں۔اس مضمون کو آپ زندگی کے روز مرہ تجربہ میں پھیلا کر دیکھیں ہمارا وقت بہت محدود ہے۔احسانات کا سلسلہ بہت دراز ہے اور ناممکن ہے کہ اگر ہمہ وقت ہم خدا تعالیٰ کے احسانات کا شکر یہ ادا کرنے میں مصروف رہیں تب بھی ان احسانات کا شکریہ ادا نہ کر سکیں۔یہ مضمون صرف وہاں سے شروع نہیں ہوتا کہ کس وقت ایک زمیندار ہل کندھے پر اٹھا کر روانہ ہوا تھا بلکہ اگر آپ زمین و آسمان کی پیدائش پر غور کریں تو لاکھوں نہیں کروڑوں نہیں اربوں سال ہیں جن میں خدا تعالیٰ نے انسان کے آنے کی تیاریاں کی ہیں۔اس زمین کو بچھونا بنایا، پہاڑ کس طرح پیدا کئے گئے ، سمندر کس طرح پیدا ہوئے، زندگی کا آغاز کیسے ہوا، کیسے کیسے قوانین جاری کئے گئے زندگی کی حفاظت کے لئے اور کس طرح وہ زندگی میں تناسب پیدا کیا گیا جس کے بغیر انسان کی پیدائش ناممکن تھی؟ انسان کی ہر ضرورت کو پیش نظر رکھ کر خواہ وہ ابتدائی زمانے کا انسان تھا یا آخری زمانے کا انسان ہر قسم کی ضروریات مہیا کی گئیں۔خزائن ہیں زمین میں دبے ہوئے آج بھی جن تک ابھی ہماری نگاہ نہیں پہنچی مگر قرآن کریم یہ اعلان کر رہا ہے۔ان من شَيْءٍ إِلَّا عِنْدَنَا خَزَابِنُهُ وَمَا نُنَزِّلَةَ إِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُومٍ (الحجر:۲۲) کوئی چیز ایسی نہیں ہے بنی نوع انسان کے فائدے کے لئے جس کے خزانے ہم نے محفوظ نہ کر رکھے ہوں۔وَمَا نُنَزِّلُةَ إِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُومٍ لیکن ہم ان کو ایک اندازے کے مطابق ظاہر فرماتے چلے جاتے ہیں اور بنی نوع انسان کے فائدے کے لئے نازل کرتے چلے جاتے ہیں۔جن موٹروں پر آپ بیٹھ کر آئے ہیں جو تیل اُن موٹروں میں پھونکا گیا کیا آپ کو اندازہ ہے کہ اس تیل کی تیاری کے لئے خدا تعالیٰ نے کتنے سال لگائے ہیں۔اربوں سال لگے ہیں۔اس