خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 185 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 185

خطبات طاہر جلد ۸ 185 خطبه جمعه ۲۴ / مارچ ۱۹۸۹ء کہ اے خدا ! تو نے کتنا احسان فرمایا کہ مجھے ایک قسم کی موت کے منہ سے نکال کر دوبارہ زندگی عطا کی۔آج میں تیرے فضل کے نتیجے میں، تیرے رحم اور کرم کے نتیجے میں آنکھیں کھول رہا ہوں۔یہ حضرت محمد مصطفی مے کی آنکھیں تھیں جو بظاہر نیند سے اُٹھنے کے وقت کھلا کرتی تھیں لیکن فی الحقیقت نیند کی حالت میں بھی کھلی رہتی تھیں۔آپ کے عرفان کا یہ عظیم مقام تھا کہ آپ ایک موقع پر فرماتے ہیں کہ بظاہر میری آنکھیں سو جاتی ہیں مگر میرا دل کبھی نہیں سوتا اور نیند کی حالت میں بھی ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے احسانات کے تصور میں تسبیح وتحمید میں مصروف رہتا ہے۔پس حضور اکرم ﷺ سے تسبیح وتحمید کے اسلوب سیکھیں۔تسبیح وتحمید کے آداب سیکھیں۔پھر آپ کو معلوم ہو گا کہ آپ کی زندگی کا لمحہ محہ اللہ تعالی کے احسانات کے تابع ہے۔تب آپ کو یہ بات سمجھ آئے گی کہ کیوں ہم یہ کہتے ہیں کہ ساری زندگی بھی اگر خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرتے چلے جائیں تو وہ شکر ادا نہیں ہوسکتا۔ہرسانس جو ہم لیتے ہیں، ہر ہوا کا ذرہ جو ہر سانس میں ہم لیتے ہیں اللہ تعالیٰ کے احسانات کی نشاندہی کر رہا ہوتا ہے۔ایک عارف باللہ ان نشانات کا جب تصور باندھتا ہے تو اس ایک سانس کے تصور میں ہی سینکڑوں دوسرے سانس لے لیتا ہے۔کس کس سانس کی پیروی کرے گا اُس کے احسان ادا کرنے کے لئے۔ایک بزرگ کے متعلق یہ ذکر آتا ہے ایک دفعہ ایک مٹھائی کا ٹوکرا اُن کے سامنے تحفے کے طور پر پیش کیا گیا۔کچھ اس میں لڑو تھے انہوں نے نکالے اور اپنے مریدوں کولڈ و بانٹ دیئے اور ایک لڈو خود ہاتھ میں پکڑ لیا۔وہ تو اپنے اپنے لڈو کھا کر فارغ ہو گئے اور وہ جو بزرگ تھے انہوں نے لڈو سے دانہ دانہ نکال کر منہ میں ڈالنا شروع کیا اور ہلکا ہلکا اس کو چباتے رہے اور خیالات میں کھوئے رہے۔ایک لمبا عرصہ گزرگیا اور وہ لڈو ختم نہ ہوا۔تو اُن کے ایک مرید نے پوچھا کہ یہ آپ کیا کر رہے ہیں؟ انہوں نے کہا میں ہر دانہ جو منہ میں ڈالتا ہوں اس کے ساتھ یہ تصور باندھنے کی کوشش کرتا ہوں کہ خدا کے رحمتوں کے کتنے جلووں نے یہ دانہ بنایا ہوگا۔میرا ذ ہن میٹھے کی طرف منتقل ہو جاتا ہے۔میرا ذ ہن اس نئے شکر کی طرف یعنی گنے کی طرف منتقل ہو جاتا ہے جو کبھی کھیتوں میں آگ رہا تھا پھر وہ تنومند ہوا، پھر اس میں رس پیدا ہوا ، رس میں میٹھاس پیدا ہوئی اور کس طرح پھر اس کو میری خاطر کیونکہ خدا نے یہ دانہ میرے منہ میں ڈالنا تھا بڑی محنت کے ساتھ کسانوں نے کاٹا اور پھر کس طرح اس کا رس نچوڑا گیا اور یہ مضمون سوچتا چلا جاتا ہوں دانہ ختم ہو جاتا ہے یہ مضمون ختم نہیں ہوتا پھر ایک اور دانہ منہ