خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 171
خطبات طاہر جلد ۸ 171 خطبہ جمعہ ۱۷ / مارچ ۱۹۸۹ء ہوں گے اور اس کی اطاعت کے سوا اُن کے پاس کوئی چارہ نہیں رہے گا۔لَا عِوَجَ لَہ اس میں تم کوئی بھی نہیں دیکھتے۔ہر لحاظ سے سیدھا، ہر لحاظ سے صراط مستقیم پر قائم اور کسی پہلو سے بھی تم اگر تلاش کرنے کی کوشش کرو تو اس کے کردار میں تمہیں کسی قسم کی کوئی کمی، کوئی کبھی دکھائی نہیں دے گی۔وَخَشَعَتِ الْأَصْوَاتُ لِلرَّحْمَنِ فَلَا تَسْمَعُ إِلَّا هَمْسًا اُس وقت یہ آوازیں جو آج بڑی بڑی باتیں کر رہی ہیں اور بلند ہو رہی ہیں اور پہاڑوں کی بلندیوں کے قصے کرتی ہیں خود اتنی دھیمی ہو جائیں گی اور خدا کے خوف سے اس طرح دب جائیں گی کہ تمہیں سوائے سرگوشیوں کے ان لوگوں کی کوئی آواز تمہیں سنائی نہیں دے گی۔یہ وہ وعدہ ہے جو حضرت اقدس محمد مصطفی مے سے خدا تعالیٰ نے چودہ سو سال پہلے کیا اور اُس کے تھوڑی دیر بعد ہی ہم نے واقعہ عظیم الشان پہاڑوں کو ریزہ ریزہ ہو کر بکھرتے دیکھا۔اب وہ اسلام کے گھوڑوں کے سامنے چٹیل میدان بن گئے۔اسلام کا پیغام دند نا تا ہوا اُن کے سینوں پر سے راہیں نکالتا ہوا اگلی دنیا کی طرف بڑھتا رہا۔تو جو پیشگوئی ایک دفعہ تاریخ عالم نے لفظ لفظاً بعینہ پورا ہوتی دیکھ لی ہے کیوں تم تعجب کرتے ہو کہ اس پیشگوئی کا دوبارہ ظہور نہیں ہوگا۔گویا یہ اپنی راہ میں اپنی منزل تک پہنچے بغیر آدھے رستے میں تھک کر بیٹھ جائے گی ہرگز ایسا نہیں ہوگا۔آج بھی یقیناً دنیا کی عظیم الشان سلطنتوں کے پہاڑ اسلام کی راہ روک کے کھڑے ہیں۔آج بھی بے شک ہمیں اتنی طاقت بھی ان کے مقابل پر نہیں جتنی حضرت محمد مصطفی ملے کے عرب غلاموں کو دنیا کی دیگر عظیم الشان سلطنتوں کے مقابل پر حاصل تھی لیکن آج بھی وہی خدا ہے، وہی محمد مصطفی ﷺ کا خدا ہے جو چودہ سو سال پہلے تھا اور ہم نہیں ہمارا خدا ان پہاڑوں کو ضرور ریزہ ریزہ کر دے گا اور میں تمہیں خوشخبری دیتا ہوں کہ اگلی صدی میں تم یہ نظارے دیکھو گے کہ عظیم الشان طاقتوں کے پہاڑ ریزہ ریزہ کر کے میدانوں کی طرح، ہموار میدانوں کی طرح تمہارے سامنے بچھا دیئے جائیں گے اور احمدیت کی فتح کے گھوڑے اور اسلام کی فتح کے گھوڑے دندناتے ہوئے اُن کی چھاتی کے اوپر سے گزرتے چلے جائیں گے پھر اگلی دنیاؤں کو فتح اور پھر مزید اگلی دنیاؤں کو فتح کرتے چلے جائیں گے۔پس پہاڑوں کو ریزہ ریزہ ہوتے دیکھنا کوئی تعجب کی بات نہیں ہے اور مذہبی دنیا میں ایسا ہوتا آیا ہے اور یہ خدا کی طاقت ہے جو ایسا کرتی ہے۔جہاں اس مضمون پر غور کرنے سے ہم میں عظیم