خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 161
خطبات طاہر جلد ۸ 161 خطبه جمعه ۱۰/ مارچ ۱۹۸۹ء کا سلوک کیا جائے گا، عفو کا سلوک کیا جائے گا، مغفرت کا سلوک کیا جائے گا لیکن یہ عہد ضروری ہے کہ میں اپنے آپ کو پہلے سے بہتر بنانے کی کوشش کروں گا اور یہ عہد خاص طور پر اس لئے ضروری ہے کہ ہم اگلی صدی کے سر پر کھڑے ہونے والے ہیں اور آئندہ آنے والی ساری صدی کی جو مسافت پھیلی پڑی ہے اس پر آپ لوگ اثر انداز ہوں گے۔ایک سو سال گویا کہ آپ کو بادشاہی عطا کی گئی ہے۔آپ کی نسلوں نے اگلی صدی میں اسلام کی عظیم الشان خدمتیں کرنی ہیں یا بعض لوگوں نے ان خدمتوں سے محروم رہ جانا ہے۔پس اس موقع پر جو قافلہ بھی یہ سعادت پارہا ہے کہ وہ صدی کے سر پر قافلہ بنے اس میں آپ شامل ہیں اور اس پہلو سے غیر معمولی اہمیت حاصل ہو چکی ہے۔پس اس رنگ میں داخل ہوں سر جھکاتے ہوئے تقویٰ کے ساتھ اور اس ارادے کے ساتھ کہ جو کمزوریاں ہم دور کر سکے ہیں وہ اللہ کا فضل تھا جو ہم نہیں دور کر سکے وہ ہماری ہی اپنی شامت اعمال ہے ہم آئندہ اس کو پوری کوشش کے ساتھ ان بدیوں کو دور کرنے کی کوشش کریں گے اور اس سلسلے میں یہ بات یاد رکھیں کہ جو خدا کے ساتھ عہد کئے جاتے ہیں وہ پوچھے جاتے ہیں۔کوئی آدمی یہ کہہ سکتا ہے کہ اچھا پھر ہم عہد ہی نہیں کرتے لیکن یہ ایسی بات نہیں ہے جو اس کے بس میں ہے۔ایک عہد تو وہ ہے جو آج آپ کر رہے ہیں یا پہلے کر چکے ہیں یا کل کرنے والے ہوں گے کہ میں اپنی یہ کمزوری دور کروں گا۔وہ بھی ایک عہد ہے اس کی بھی ایک اہمیت اور عظمت ہے لیکن ایک عہد بیعت ہے جو دراصل خدا تعالیٰ سے کیا جاتا ہے اور وہ عہد ہے جو اصل اور حقیقی عہد ہے جس کے اندر ساری نیکیوں کو اختیار کرنا شامل ہے اور ساری بدیوں کو ترک کر دینا شامل ہے۔پس بظاہر آپ بالا رادہ اس روحانی گیٹ سے داخل ہونے سے پہلے کوئی عہد خدا سے باندھیں یا نہ باندھیں اگر آپ مومنین کی جماعت میں شامل ہیں تو وہ عہد تو آپ باندھ چکے ہیں۔اب آپ بے اختیار ہیں اس لئے یا درکھیں کہ جو عہد خدا سے باندھا گیا ہے اس عہد کو نبھانا ہمارا فرض ہے۔اس عہد کو نبھانے کی حتی المقدور کوشش کرنا ہم سب پر لازم ہے اور خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ عہد جو ہے یہ مسؤل ہے۔اس عہد کے متعلق تم ضروری پوچھے جاؤ گے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جب اس عہد بیعت کی تجدید کی اس دور میں جس کا اسلام میں آغاز حضرت اقدس محمد مصطفی علیہ کے ذریعے سے ہوا تھا تو اُس میں یہ الفاظ رکھے کہ میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا اور میں اپنے تمام پچھلے گنا ہوں سے تو بہ کرتا ہوں اور آئندہ ہر