خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 145 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 145

خطبات طاہر جلد ۸ 145 خطبه جمعه ۳ / مارچ ۱۹۸۹ء آنکھ ایسی نہیں جو یہ پہچان نہ سکتی ہو کہ اس کے پیچھے در حقیقت اسلام سے نفرت کارفرما ہے یا ایران کی نفرت کارفرما ہے۔تو اس نفرت نے جس طرح اپنا سر اٹھایا ہے یہاں اس سر کے اٹھانے کے نتیجے میں اسلام کی طرف بھی حملہ ساتھ کیا جاتا ہے۔یعنی یوں کہہ لینا چاہئے کہ ایران کی نفرت اور اسلام کی نفرت نے گویا ایک اجتماع کر لیا ہے اور اگر ایران کے خلاف نفرت کا اظہار کریں اور دوست مسلمان ممالک پوچھیں تو اُن ممالک سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ ہم اسلام کے خلاف بالکل نہیں ہیں ہم تو ایران سے اپنے بدلے اُتار رہے ہیں اور اگر دوسرے ممالک اپنے دوست ممالک بات کریں تو ان سے کہیں کہ دیکھیں ہم نے تو اسلام پر حملہ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے ہی نہیں دیا۔اور تیسرا اس طرز عمل کا فائدہ یہ اٹھایا انہوں نے کہ سلمان رشدی کی کتاب کی غلاظت سے توجہ اس رنگ میں ہٹائی کہ گویا یہ ثانوی سی بات ہے اس کی کوئی حیثیت ہی نہیں ہے، ایک معمولی بات ہے۔اصل واقعہ تو یہ کہ سلمان رشدی کے خلاف قتل کا فتویٰ دے دیا گیا ہے اور مسلمان مظاہرے کر رہے ہیں۔یہاں تک کہ ایران نے برطانیہ کو یہ پیشکش بھی کی کہ تم کھلم کھلا اس کتاب کو Condemn کرو۔اس کے خلاف نفرت کا ، مذمت کا اظہار کرو۔تو پھر تو ہمارے تعلقات دوبارہ بحال ہو سکتے ہیں۔مگر انہوں نے کہا یہ نہیں ہو سکتا۔کتاب کی مذمت کا ہم اعلان نہیں کریں گے۔یعنی تمام دنیا کو یہ کہ ر ہے ہیں (یہاں آ کر بات کھل جاتی ہے ) کہ در اصل اس موقع پر اصل جھگڑا یہ ہے کہ خمینی کے اس فتوے کے خلاف مذمت کا اظہار ہونا چاہئے یا نہیں ہونا چاہئے ؟ جمینی کے فتویٰ کے خلاف تمام دنیا کو مذمت کرنی چاہئے یہ ان کا مطالبہ ہے اور جب کہا جائے کہ جس خباثت کی وجہ سے خمینی نے یہ حرکت کی اس کی مذمت کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے تو کہتے ہیں زبان کی اور قلم کی اور ضمیر کی آزادی ہے۔اگر آزادی ہے تو مذمت کرتے ہوئے تمہاری زبانوں پر کیوں تالے پڑ جاتے ہیں۔ایک بے حیائی کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہو اور پھر اس کی مذمت نہیں کرتے۔یہاں پہنچ کر اسلام کی دشمنی ظاہر ہو جاتی ہے۔جو میں مضمون بیان کر رہا ہوں ایک فرضی الزام نہیں ہے جو ان پر عائد کیا جا رہا ہے۔ان کا طرز عمل کھول کر بتا رہا ہے کہ محض سیاسی دشمنی نہیں ہے بلکہ اسلام کی دشمنی بھی اس ساری صورتحال میں کارفرما ہے۔ایسی صورت میں ان سے کیا سلوک ہونا چاہئے؟ جس قسم کے ہتھیاروں سے کوئی دشمن حملہ کرتا ہے اس قسم کے ہتھیاروں کا استعمال نہ صرف