خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 133
خطبات طاہر جلد ۸ 133 خطبه جمعه ۲۴ فروری ۱۹۸۹ء ہو۔پس انفرادی طور پر بعض لوگ خود ہی لکھتے ہیں وہ تو الگ بات ہے لیکن جماعتیں جب یہ اس مسئلے پر غور کریں تو حکمت کے ساتھ منصوبہ بنا کر اور مرکز کے مشورے کے ساتھ کارروائی کریں۔اب تک مثلاً امریکہ میں والدن بکس (Walden Books) کے تین سو سٹالز سے یہ کتاب ہٹالی گئی ہے۔اگر ہم اس وقت ان کے ساتھ شکریہ کا تعلق قائم کریں تو ہوسکتا ہے آئندہ کے لئے پھر وہ ارادہ ہی بدل دیں لیکن اگر یہ نہ ہوا تو مجھے ڈر ہے کہ دوبارہ پھر یہ داخل کر لیں گے یا یہ سمجھیں گے کہ معاملہ ٹھنڈا ہو گیا ہے۔تو اس وقت ان لوگوں کے ساتھ رابطہ کرنا، ان کا شکریہ ادا کرنا ، ان کو سمجھا نا کہ تم اس گند میں نہ پڑو اور احتجاجاً اخلاقی قدروں کی خاطر اس کتاب سے اپنا تعلق تو ڑلو یہ مفید نتیجہ پیدا کرسکتا ہے، ساتھ دعا بھی کرنی چاہئے۔فرانس اور جرمنی کے پبلشرز نے جنہوں نے کتاب کا ترجمہ شائع کرنا تھا اپنا فیصلہ بدل لیا ہے۔فرانس کی حکومت، جرمنی کی جماعتوں کا کام ہے کہ وہ اب مطلع کرے مرکز کو بھی اور خود مؤثر رابطہ کریں اور کبھی کہیں کہیں سے بیرونی دنیا سے بھی ان کمپنیوں کو اور ان حکومتوں کو شکریہ کے خط جانے چاہئیں۔ہندوستان خاص طور پر شکر یہ کا محتاج ہے جس نے باوجود اس کے کہ ہندو بھاری اکثریت ہے اصولاً اس کتاب کو رڈ کر دیا ہے خود ہی اور باوجود اس کے کہ بہت دباؤ ڈالا گیا ہے ہندوستان پر لیکن اس نے اس کو تسلیم نہیں کیا۔ساؤتھ افریقہ باوجود اس کے کہ نسلی دشمنیاں ہیں لیکن اس معاملے میں شرافت دکھا گیا ہے۔باقی مسلمان ممالک میں سے چند نے کیا ہے اور یہ عجیب ہے کہ باقی سب نے نہیں کیا ہے اس کو ابھی تک رڈ اور کوئی قانونی روک نہیں کھڑی کی۔جاپان نے کیونکہ وہ سمجھدار قوم ہے غالباً تجارتی اغراض کی خاطر مسلمان ممالک کو خوش کرنے کے لئے اس کتاب کو چھپنے کی اجازت نہیں دی لیکن ویسے بھی ہو سکتا ہے کہ تہذیبی لحاظ سے بھی انہوں نے غلط سمجھا ہولیکن کہا بہر حال یہی ہے کہ نہایت بد تہذیب کتاب ہے اس قسم کی کتاب ہم شائع نہیں کریں گے۔W۔H۔Smith نے جس نے کثرت کے ساتھ یہاں شروع کی تھی وقتی طور پر اس کتاب کو واپس لے لیا ہے۔سب سے زیادہ جو قابل شکریہ ہیں وہ کارڈینل ہیں کیون (Lyons) کے فرنچ کارڈینل جنہوں نے نہایت بھر پور تبصرہ اس کتاب کے خلاف کیا ہے اور اس تبصرے کو پڑھ کے دل خوش ہو جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ نہایت غلیظ ، لغو، لچر ایسی مخش کتاب ہے کہ کسی دنیا کے شریف آدمی کو اس کو نہیں پڑھنا چاہئے اور اس کو ساری دنیا کو رد کرنا چاہئے اور اس نے شکوہ کیا ہے عیسائیوں سے کہ تمہیں شرم