خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 132 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 132

خطبات طاہر جلد ۸ 132 خطبه جمعه ۲۴ فروری ۱۹۸۹ء زندگی میں یہ چھپ جائے اُن کے مشوروں پر بعض حصے جو اردو دان طبقے کے لئے موزوں تھے لیکن مغربی دنیا کے لئے بے تعلق سے تھے وہ چند حصے تھوڑے سے حذف کر دیئے گئے تھے اور اُن کے مشورے پر بعض باتوں کا اضافہ کر دیا گیا تھا۔اس لئے کوئی یہ نہ سمجھے کہ گویا مترجم نے دخل اندازی کر کے وہ غلط رنگ میں تصنیف کو پیش کیا ہے جو کچھ بھی ہے مجھ سے اجازت لے کر اور مجھے مشورہ دے کر تبدیلیاں کروائی ہیں بعض انہوں نے اور اس سے نفس مضمون پر کوئی اثر نہیں پڑتا بلکہ مغربی دنیا کے لحاظ سے اس بات کو تقویت ملتی ہے جو ہم دنیا تک پہنچانا چاہتے ہیں۔اس لئے امید ہے یہ انشاء اللہ تعالیٰ نیک نتیجہ پیدا کرے گی لیکن یہ کافی نہیں ہے۔اس کتاب کے متعلق چونکہ ایسی غلیظ ہے میں اس کو تفصیل سے بیان نہیں کر سکتا کیونکہ میں بورڈ مقرر کروں گا جو تجزیہ کر کے اُن تمام جڑوں تک پہنچے جہاں سے یہ غلط الزامات چلتے ہیں اور پھر بعض احمدی محققین کے سپر د یہ کام کیا جائے گا کہ وہ اس کے جواب لکھیں اور مختلف زبانوں میں ترجمے کر کے ساری دنیا میں پیش کئے جائیں۔آج کل چونکہ شیطانی کتاب میں دلچسپی ہے اس لئے ہو سکتا ہے اس کے بہانے جواب میں بھی دلچسپی پیدا ہو جائے جو ویسے عام حالات میں نہ ہوتی تو اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ہر میدان جنگ میں جہاں اسلام کا دفاع ضروری ہے ہر اس سرحد پر جہاں اسلام پر حملے ہورہے ہیں ہمیشہ احمدی صف اوّل پر آنحضرت ﷺ اور اسلام کے دفاع میں سینہ تانے کھڑے رہیں اور کسی شیطان کو یہ طاقت نہ ہو کہ کسی نام پر بھی وہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ اور اس پاک مذہب پر حملے کر سکے۔خطبہ ثانیہ کے دوران حضور انور نے فرمایا: ایک بات جو میں نے جماعت کو سمجھانی تھی اس وقت ذہن سے اتر گئی وہ میں اب اس دو خطبوں کے درمیان بیان کرتا ہوں۔ایک تو یہ کہ جن ملکوں نے یا جن کمپنیوں نے اس کتاب کو شائع کرنے کی اجازت نہیں دی یا شائع کرنے لگے تھے اور یہ ارادہ واپس لے لیا اُن کو حوصلہ افزائی اور شکریوں کے خط جماعت کی طرف سے ملنے چاہئیں اور یہ اس لئے ضروری ہے کہ بہت بڑا احسان ہے۔یعنی ہمارے دل پر احسان ہے جو اس قدر دکھ اُٹھاتا ہے اس کتاب سے رسول اللہ ﷺ کی تائید میں کوئی آواز بھی کسی طرف سے بلند ہو اس کا شکر یہ فرض ہے اور سب شکریوں سے بالا یہ شکریہ ہے تو ان لوگوں سے مختلف رنگ میں رابطہ ہونا چاہئے مگر ایسی حکمت کے ساتھ کہ اس کا کوئی غلط تاثر قائم نہ