خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 131 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 131

خطبات طاہر جلد ۸ 131 خطبه جمعه ۲۴ فروری ۱۹۸۹ء پھر حملہ کرے گا اور پھر ایک بد بخت اُٹھے گا اور پھر حملہ کرے گا۔اس لئے احمدیت کو چاہئے کہ وہ ہمیشہ کے لئے آنحضور ﷺ کے سامنے سینے تان کے کھڑی ہو جائے۔جس طرح حضرت طلحہ نے کیا تھا کہ جو تیر حضرت محمد مصطفی ﷺ پر برسائے جارہے تھے اپنے ہاتھ پر لئے اور ہمیشہ کے لئے وہ ہاتھ بے کار ہو گیا اس طرح اپنا سینہ سامنے تان کر کھڑا ہو جائے تمام تیر جو ہمارے آقا محمد رسول اللہ ﷺ پر چلائے جارہے ہیں اپنے سینوں پر لیس یہ اسلام ہے یہ اسلام کی محبت ہے اس طرح اسلام کا دفاع ہونا چاہئے اور وہ سارے مضامین جو اس کتاب میں چھیڑے گئے ہیں کہانی کے رنگ میں ان کا محققین اور اہل علم مطالعہ کریں اور ان کے دفاع پر کثرت کے ساتھ مضامین شائع کروائیں اور ایک ایک چیز کو لے کر اب جب کہ یہ دلچسپی قائم ہے اس سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے اسلام کا پوری طرح دفاع کریں اور یہ فوری کارروائی کا حصہ ہے اور اس کے لئے ہم مزید انتظار نہیں کر سکتے۔خوش قسمتی سے میری کتاب ”مذہب کے نام پر خون ایک انگلستان کی کمپنی اس کا انگریزی ترجمہ شائع کر رہی ہے اور یہ بھی اللہ تعالیٰ کا تصرف ہے کہ جب اس کا انگریزی ترجمہ ان کے سامنے پیش کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ اس میں ۱۹۵۳ء کے حوالے سے۔بہت سی باتیں کہی گئی ہیں لیکن Islamic Terrorism پر کچھ نہیں کہا گیا اور Islamic Fundamentalism پر کچھ نہیں کہا گیا اور مرتد کی سزا کے قتل کے موضوع کے اوپر جس طرح بھر پور عالمانہ دفاع ہونا چاہئے تھا اس کی بجائے چند ایک باتوں پر اکتفا کی گئی ہے جبکہ حملے متفرق کئی سمتوں سے ہو رہے ہیں۔تو ان کا میں ممنوں ہوں کہ ان کے اس توجہ دلانے پر میں نے دو نئے باب انگریزی میں اضافہ کئے ہیں جو اردو میں نہیں ہیں اور اس میں منصور شاہ صاحب نے میری مدد کی اور ڈکٹیشن (Dictation) بھی لیتے رہے اور مشورے بھی دیتے رہے اور کافی انہوں نے محنت کی۔بہر حال یہ کتاب اب تیار ہے چھپنے کے لئے اور اس کمپنی کا مجھے پیغام ملا ہے کہ عجیب اتفاق ہے کہ ادھر یہ مسئلہ اٹھا ہے اور ادھر یہ کتاب ہماری تیار ہے چنانچہ ہم نے سب دنیا میں یہ اشتہار دے دیا ہے کہ اصل اسلامی تعلیم کیا ہے اس کے متعلق ایک کتاب آنے والی ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے یہ عاجزانہ خدمت کی توفیق بخشی اور جو انگریزی ترجمہ ہے اس میں یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ سید برکات احمد صاحب مرحوم نے جو اپنی آخری کینسر کی بیماری میں یہ ترجمہ کیا تھا بڑے اخلاص کے ساتھ اُن کے لئے بھی دعا کریں وہ ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ میری خواہش ہے کہ میری