خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 130
خطبات طاہر جلد ۸ 130 خطبه جمعه ۲۴ فروری ۱۹۸۹ء پس میں احمدیوں کو اب یہ تلقین کرتا ہوں کہ صورتحال کے تجزیہ کے نتیجے میں وہ ایسی مؤثر اور دیر پا کارروائی کریں جو آئندہ نسلوں تک پھیل جائے۔اگلی صدی، اس سے اگلی صدی ، اُس سے اگلی صدی۔اب یہ ایک صدی کا معاملہ نہیں ہے۔محمد مصطفی ﷺ کا سارا زمانہ غلام ہے۔اپنے پہلے زمانے کے بھی وہ بادشاہ تھے اور آئندہ زمانوں کے بھی وہی بادشاہ ہیں اس لئے ہمیشہ کے لئے جماعت احمد یہ ایسی کوششوں میں وقف ہو جائے جس کے نتیجے میں دشمن کے ہرنا پاک حملے کو ناکام بنایا جائے۔پس میں جماعت کی اُن نسلوں کو خصوصیت سے مخاطب ہوں جو ان ملکوں میں پیدا ہوئے ہیں جہاں اسلام پر حملے ہوتے ہیں کہ اگر چہ ہم ان حملوں کے لئے دفاع کا مضمون جہاں سمجھتے ہیں لیکن یہاں کی زبان کے اسرار ہمیں نہیں آتے۔وہ لوگ جنہوں نے انگریزی تعلیم حاصل کی ہے ہندوستان میں یا پاکستان میں یا دیگر ممالک میں شاذ اُن میں سے ایسے ہیں جن کا بچپن کا ماحول وہی تھا جو اہل زبان انگریزی دانوں کا ماحول ہوا کرتا ہے۔جیسے اعلیٰ ، اعلیٰ تو نہیں کہنا چاہئے ایسے انگریزی سکولوں میں ، Convent سکولوں میں پڑھے جس کے نتیجے میں دین کا بے شک کچھ نہ رہا ہولیکن انگریزی زبان پر دسترس ہوگئی اور اس محاورے کے واقف ہو گئے جو ان کو پسند آتا ہے۔اس لئے اپنی نئی نسلوں کو مقامی زبانوں میں ماہر بنائیں اور نئی نوجوان نسلوں میں سے کثرت کے ساتھ اخبار نویں پیدا کریں کیونکہ صرف زبان کا محاورہ کافی نہیں اخبار نویسی کی زبان کا محاورہ ضروری ہے اور اس نیت سے کریں کہ ساتھ ساتھ یہ اسلام کا گہرا مطالعہ بھی کریں گے تاکہ ان کی زبان دانی اسلام کے حق میں اور محمد مصطفی ماہ کے دفاع میں استعمال ہو۔اس لئے امریکہ ہو یا افریقہ ہو یا چین ہو یا جاپان ہو یا یورپ کے متفرق ممالک ہوں یا ایشیا کے دیگر ممالک جہاں جہاں بھی احمدی خدا کے فضل کے ساتھ موجود ہیں اور مقامی طور پر ایسی پرورش انہوں نے پائی ہے اور ایسی تعلیم حاصل کی ہے کہ اس ملک کے الله اہل زبان شمار کئے جاسکتے ہیں ان کو محمد مصطفی ﷺ کے دفاع کے لئے وقف ہو جانا چاہئے اور اس نیت سے ادب اور کلام پر دسترس حاصل کرنی چاہئے اور قادر الکلام بننا چاہئے کہ خود انہی کے ہتھیاروں سے انہی کے انداز سے ہم ان کے متعلق جوابی کارروائی کریں گے اور اسلام کا دفاع کریں گے اور حضرت اقدس محمد مصطفی عملے کے تقدس کی حفاظت کریں گے اور یہ جنگ آج کی چند دنوں کی جنگ نہیں ہے یہ لوگ اس حملے کو بھول جائیں گے اور یہ تاریخ کی باتیں بن جائیں گی اور پھر ایک بد بخت اُٹھے گا اور