خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 129 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 129

خطبات طاہر جلد ۸ 129 خطبه جمعه ۲۴ فروری ۱۹۸۹ء کہ مجھے معاف کر دیا جائے اور انہوں نے کہا ہاں ہم تمہیں معاف کرتے ہیں۔ایک احمدی اگر آنحضرت ﷺ کے عشق میں لا الہ الا الله محمد رسول اللہ کا نعرہ بلند کرتا ہے اُس کو تم واجب القتل قرار دیتے ہو اور کسی قیمت پر معاف کرنے کے لئے تیار نہیں اور بے حیائی کی حد یہ ہے کہ ایک نہایت ہی خبیث مصنف جس نے آنحضرت ﷺ اور دیگر بزرگ انبیاء اور صحابہ پر نہایت گندے اور نا پاک حملے کئے جس سے ایک غیرتمند مسلمان کا خون کھولنے لگتا ہے اُس کو تم اس لئے معاف کر دیتے ہو کہ وہ کہتا ہے میں معافی مانگتا ہوں اور ساتھ یہ بھی اعلان کرتا ہے۔انہی ریڈیوز ، ٹیلیویژنز کے اوپر کہ کاش میں نے اس سے زیادہ گندی کتاب ، اس سے زیادہ سخت کتاب لکھی ہوتی اور ایک لفظ بھی اپنی کتاب کے مضمون کے خلاف نہیں لکھتا اور آپ کہتے ہیں جی اُس نے کہہ دیا ہم دل دکھانے پر بھی معافی مانگ رہے ہیں یہ صاحب۔اس لئے ہم معاف کر دیتے ہیں۔کمال ہے معافی کا تصور بھی اور انتقام کا تصور بھی۔جو عشاق محمد مصطفی ، وہ تو گردن زدنی ہیں تمہارے نزدیک اور جو خبیث گندے اور نا پاک حملے کرنے والے ہیں اور حدوں سے تجاوز کرنے والے ہیں۔ان کے منہ کی جھوٹی معافی پر تم ان کو معاف کرنے کے لئے تیار ہو گویا تم خدا بنے بیٹھے ہو۔تمہارے ہاتھ میں اس کی معافی اور اس کی اصلاح کا معاملہ ہے۔ہرگز تمہارے ہاتھ میں نہیں۔محمد مصطفی عیدے کی جو غیرت ہمارے خدا کے دل میں ہے۔خدا رکھتا ہے محمد مصطفیٰ کی غیرت۔وہ کبھی ایسے خبیث کو معاف نہیں کرے گا۔جس نے اس بے باکی اور بے حیائی کے ساتھ دنیا کے سب سے مقدس انسان پر سب سے غلیظ حملے کئے۔تم ہوتے کون ہو معاف کرنے والے۔قطعا طور پر نہیں دیتا اسلام۔یہ اسلام، احمدیت کی تعلیم نہیں اس تعلیم کے خلاف تم احمدیت کے خلاف ہمیشہ گندی سازشیں کرتے رہے اور تحریکات چلاتے رہے۔لیکن آج خمینی نے جب یہ قتل کا فتویٰ دیا تو تم اس قتل کے فتویٰ کے بھی خلاف ہوگئے۔یہ تمہارا تقویٰ ، یہ تمہارا مذہب، یہ تمہاری سیاست ہے۔اس کو تم اسلام کہتے ہو؟ وہی اسلام پینے گا دنیا میں جو محمد مصطفی ﷺ کا اسلام ہے جس کے ساتھ احمدیت دل و جان کے ساتھ وابستہ ہے اور ہمیشہ وابستہ رہے گی اور اس اسلام سے ہٹنے کے نتیجے میں تم نے خود دشمن کے ہاتھ میں وہ ہتھیار پکڑا دیئے جن کو پکڑ کر وہ اب غلیظ حملے کر رہا ہے اور تمہارے پاس حقیقت میں ان کے جواب کی کوئی کارروائی نہیں رہی ، کوئی موقع نہیں رہا، کوئی ہتھیار نہیں رہا۔