خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 123
خطبات طاہر جلد ۸ 123 خطبه جمعه ۲۴ فروری ۱۹۸۹ء صورتوں کے یہ علمبر دار بنے اور اپنے آپ کو دنیا کی عظیم ترین تہذیب کا محافظ اور پیغامبر بنائے ہوئے ہیں۔حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ جس چیز کی یہ حفاظت کر رہے ہیں وہ بالکل اس کے برعکس ہے جو اسلام نے تعلیم دی تھی۔اب تجزیہ کر کے دیکھیں کہ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ اے مسلمانو تم دوسروں کے بزرگوں کو خواہ وہ سو فیصدی جھوٹے بھی ہوں برا بھلا نہ کہو اور اس میں ہم تمہیں آزادی نہیں دیتے۔یہ کہتے ہیں کہ ہمارے ہاں آزادی کا تصور یہ ہے کہ دوسروں کے بزرگوں کو خواہ وہ کروڑہا کروڑ انسانوں کے نزدیک صاحب عظمت ہوں برا بھلا کہو اور نہایت غلیظ زبان میں برا بھلا کہو اور یہ ہے آزادی ضمیر کا تصور اور یہ ہے انسانی آزادی کا تصور۔کیا دوسری طرف ضمیر کوئی نہیں ہے؟ کیا زبان کو آزادی ہے اور کانوں کو کوئی آزادی نہیں ہے؟ کیا زبان کا حق ہے اور کان کا نہیں؟ کیا یہ حقوق ایک سمت سے دوسری سمت میں روانہ ہوتے ہیں اور دوسری سمت کا کوئی بھی خیال تمہیں نہیں ہے۔یہ عدم توازن ہے جس کو مسلمانوں کو کھول کر اُن کے سامنے پیش کرنا چاہئے اور پھر یہاں پر ایک دوغلا پن ہے۔ایک تضاد ہے ان کے اپنے عمل میں۔بلا شیمی (Blasphamy) کا ایک قانون ہے جو اس ملک میں رائج ہے لیکن وہ صرف عیسائیت کے لئے ہے۔اب دیکھیں یہاں اسلام اور عیسائیت کا کتنا نمایاں فرق سامنے آتا ہے۔ان کا جو قانون ہے وہ یہ ہے اور اُس کو حج میڈ لاء (Judge Made Law) کہتے ہیں یعنی پارلیمنٹ نے تو یہ قانون نہیں بنایا مگر روایہ چلا آرہا ہے جس کو عدالتوں نے تقویت دی اُس کی توثیق کی۔وہ قانون یہ ہے کہ عیسائیت کے خلاف اور حضرت عیسی علیہ السلام کے خلاف کوئی ایسی زبان برداشت نہیں کی جائے گی جو تضحیک کا رنگ رکھتی ہو تذلیل کا رنگ رکھتی ہو ، اس میں فاسقانہ لفظ استعمال کئے گئے ہوں۔وہاں آزادی ضمیر کہاں گئی ، وہاں آزادی تقریر کہاں چلی گئی؟ اپنے ملک میں قانون رائج ہے موجود ہے اُسے ایک طرف چھپائے ہوئے ہیں۔اسلام یہ قانون دے رہا ہے کہ تم نے دوسرے مذہبوں کی عزت کرنی ہے اور خبر دار جو اس قانون کو پامال کیا اور اس مذہب کو کہتے ہیں بہت ہی تنگ نظر اور جاہلانہ اور فرسودہ مذہب ہے اور ان کے ہاں صرف اپنے بزرگوں کی حفاظت کا قانون ہے اور جب اُن سے کہا جائے کہ دوسرے بزرگوں کی عزت کرو تو کہتے ہیں کہ آزادی ضمیر ، آزادی تقریر کے مخالف بات ہے۔مجھ سے جب پریس انٹرویو ہوئے کچھ یہاں۔یہاں تو بعض معززین کی دعوت میں سوال ہوا تھا۔ہالینڈ میں کئی پریس انٹرویو ہوئے اُن کے سامنے میں نے یہ