خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 115 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 115

خطبات طاہر جلد ۸ 115 خطبه جمعه ۲۴ فروری ۱۹۸۹ء بات پر آمادہ کیا ہے۔اس کے بعض قریبی دوستوں نے اس کو مشورہ بھی دیا کہ یہ بہت خطرناک بات ہے اور تم اس میں ملوث نہ ہو اور بعض ٹیلی ویژن پروگراموں میں اُن کا ذکر بھی آیا ہے لیکن اس کے باوجود وہ روپیا اتنا زیادہ تھا کہ وہ اُس کو رد نہیں کر سکا اور چونکہ خود ایک بے دین اور لا مذہب انسان تھا اور خود اپنی ذاتی زندگی اس قسم کی نہیں تھی کہ جس میں انسان نفاست اور شرافت کے تقاضوں کو ملحوظ رکھے۔اس لئے بالکل بے باک ہو گیا اور معلوم ہوتا ہے یہی اس کو کہا گیا تھا کہ ایسی کتاب لکھو جو انتہائی بے باکی کے ساتھ مغربی دنیا پر سے اسلام کا ہر قسم کا اچھا تصور مٹادے اور یہ جو دوبارہ اسلام کا عروج ہو رہا ہے اور اسلام طاقت پکڑ رہا ہے اس کو اس قسم کے لٹریچر کے ذریعے کلیہ مغربی اثرات سے زائل کر دیا جائے ، مٹا دیا جائے اور وہ بھیانک تصور جو اسلام کا گزشتہ صدیوں میں پایا جاتا تھا وہ پوری قوت کے ساتھ دوبارہ واپس آ جائے اور اسی تصور کے نتیجے میں پھر ہم اسلام کی وہ کوششیں جو یورپ اور مغرب کو اسلام کی طرف مائل کرنے کی ہورہی ہیں اُن کو نا کام اور نا مراد کر دیں۔یہ سازش کا پس منظر معلوم ہوتا ہے۔مثلاً ایک بات ایسی ہے جو ایسے اس قسم کے مصنف کے ذہن میں آ ہی نہیں سکتی از خود۔جو ایسی بات ہے جس کا اسلام اور عیسائیت کے دلائل کے مقابلے میں اُس کو ایک بنیادی اہمیت حاصل ہے اور اس کا آغاز ہوتا ہے حضرت اقدس اسماعیل علیہ الصلوۃ والسلام کی ذات سے۔مسلمانوں کا مؤقف یہ رہا ہے ہمیشہ سے چونکہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد سے ہیں اس لئے وہ روحانی ورثہ جس کی حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خوشخبری دی گئی تھی اُس ورثہ میں آنحضرت علی نے بھی اُسی طرح شامل ہیں اور آپ کے متعلق وہ مبارک پیشگوئیاں بائیل میں موجود ہیں اُن کا آغاز یہاں سے ہوتا ہے۔یہ موقف ہے جو مسلمان ہمیشہ سے آغاز اسلام سے لے کر اب تک لیتے رہے ہیں۔اس پر عیسائیوں نے بارہا اپنے دلائل میں یہ بات ثابت کرنے کی کوشش کی کہ حضرت ہاجرہ چونکہ با قاعدہ منکوحہ بیوی نہیں تھیں اور ایک لونڈی تھیں جن سے ازدواجی تعلقات کی حضرت سارہ نے اُن کو اجازت دے دی تھی۔اس لئے یہ اولاد جائز اولا د نہیں ہے اور اگر ہے بھی تو اس نوعیت کی جائز اولاد نہیں کہ وہ روحانی ورثہ پاسکے۔یہ بحث ہے جو وہ لمبے عرصے سے مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان چلتی چلی آئی ہے اور خصوصیت کے ساتھ احمدی لٹریچر نے جس کا نوٹس لیا اور نہایت قطعی اور مضبوط دلائل سے ہمیشہ عیسائی پادریوں اور