خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 114 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 114

خطبات طاہر جلد ۸ 114 خطبه جمعه ۲۴ فروری ۱۹۸۹ء استعمال کرتے ہیں اُس سے ملتی جلتی زبان ہے۔جو حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے متعلق ، آپ کی ازواج کے متعلق اور دیگر بزرگوں کے متعلق استعمال کی گئی۔مجھے جو پہلی دفعہ اس کتاب کی طرف متوجہ کیا گیا۔یہ تو مجھ میں طاقت نہیں تھی کہ ساری کتاب کا مطالعہ کر سکتا لیکن بعض متفرق احمدی دوستوں کو میں نے اس کام پر مقرر کیا کہ وہ ایسے خاص پیرا گراف ایسے خاص حصے کتاب کے نمایاں کر کے، اُن پر نشان لگا کر میرے سامنے پیش کریں جن سے پتہ چلے کہ یہ کیا کہنا چاہتا ہے، کیوں کہنا چاہتا ہے اور اس کتاب کے پس منظر میں کوئی سازش ہے یا کوئی انفرادی کوشش ہے؟ گو اُن حصوں کا مطالعہ بھی ایک روحانی عذاب تھا لیکن اُن کے مطالعہ سے مجھے یہ بات سمجھ آئی کہ یہ کتاب ایک شخص کی انفرادی کوشش کا نتیجہ یقینا نہیں ہے۔سلمان رشدی جیسا شخص جس کا مذہب سے کوئی دور کا بھی تعلق نہیں جو ایک دہر یا نہ ماحول میں پیدا ہوا، اسی ماحول میں اُس نے پرورش پائی اور پھر انگلستان میں کم عمری میں ایسی عمر میں آیا جب یہ دنیا کی بیہودگیوں اور لذتوں میں پوری طرح ملوث ہو گیا۔مذہب سے اس کا کوئی رشتہ کوئی تعلق نہیں۔وہ خود تسلیم کرتا ہے کہ مجھے کوئی ذاتی علم مذہب کے متعلق نہیں ہے۔اس کا اس بار یکی کے ساتھ سارے وہ نکات تلاش کر لینا جو دشمنان اسلام، عیسائی دشمنان اسلام خصوصیت کے ساتھ اسلام پر حملے کے لئے استعمال کیا کرتے تھے یہ کوئی انفرادی ، اتفاقی واقعہ نہیں ہے۔اُس سارے زہر کا نچوڑ اس کتاب میں اکٹھا کیا گیا ہے جو گزشتہ کئی صدیوں پر پھیلا ہوا ہے۔سارا ز ہر نہیں تو اُس میں سے بہت سے حصے خصوصیت کے ساتھ جو آج کے مغربی مزاج کے ساتھ مطابقت رکھتے ہیں کیونکہ فحشاء یہاں عام ہے اور اُس کے نتیجے میں جنسی مضمون سے تعلق رکھنے والی کتابیں یہاں زیادہ مقبولیت اختیار کرتی جاتی ہیں۔اس لئے بعض قسم کی روایات پر بنا پر کر کے اُس نے اس کتاب کو ایک نہایت گندی جنسی جذبات ابھارنے والی کتاب یا جنسی جذبات کو بعض مقدس لوگوں کی طرف منسوب کرتے ہوئے تصنیف کیا اور رنگ یہ دیا کہ گویا ایک کہانی ہے۔بہت سے تبصرے اس پر ہوئے ہیں لیکن ان تبصروں کی تفصیل میں تو میں یہاں نہیں جاؤں گا بعض باتیں اس ضمن میں میں آپ کے سامنے رکھوں گا۔ایک بات خصوصیت کے ساتھ نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ یہ کتاب سلمان رشدی کی یقینا نہیں۔اُس نے اپنے ایمان کا تو نہیں کیونکہ ایمان اُس کے پاس نہیں تھا اپنی روح کا سودا کیا ہے اور کسی امیر سوسائٹی نے اس کو روپیہ دے کر اس