خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 108
خطبات طاہر جلد ۸ 108 خطبہ جمعہ ۷ ار فروری ۱۹۸۹ء کم دلچسپی کی وجہ سے گزارہ نہ ہو اور واقفین کے ساتھ شادی کے نتیجے میں بعض دوسرے مسائل اس کو در پیش ہو سکتے ہیں۔اگر وہ امیر گھرانے کی بچی ہے اس کی پرورش ناز و نعم میں ہے اور اعلیٰ معیار کی زندگی گزار رہی ہے تو جب تک شروع ہی سے اسے اس بات کے لئے ذہنی طور پر آمادہ نہ کیا جائے کہ وہ سادہ سخت زندگی اور مشقت کی زندگی برداشت کر سکے اور یہ سلیقہ نہ سکھایا جائے کہ تھوڑے پر بھی انسان راضی ہو سکتا ہے اور تھوڑے پر بھی سلیقے کے ساتھ انسان زندہ رہ سکتا ہے۔پس ایسی لڑکیاں جن کو بچپن سے مطالبوں کی عادت ہوتی ہے وہ جب واقفین زندگی کے گھروں میں جاتی ہیں تو ان کے لئے بھی جہنم پیدا کرتی ہیں اور اپنے لئے بھی۔مطالبے میں فی ذاتہ کوئی نقص نہیں لیکن اگر مطالبہ توفیق سے بڑھ کر ہو تو پھر خواہ خاوند سے ہو یا ماں باپ سے یا دوستوں سے وہ زندگی کو اجیرن بنا دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس معاملے میں کیسا خوبصورت سبق دیا جب فرمایا لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا (البقره: ۲۸۷ ) که خدا کسی کی توفیق سے بڑھ کر اس سے مطالبے نہیں کرتا تو بندوں کا کیا حق ہے کہ توفیق سے بڑھ کر مطالبے کریں۔پس واقفین زندگی کی بیویوں کے لئے یا واقفین زندگی لڑکوں کے لئے یہ ضروری ہے کہ یہ سلیقہ سکھیں کہ کسی سے اس کی توفیق سے بڑھ کر نہ توقع رکھیں نہ مطالبہ کریں اور قناعت کے ساتھ کم پر راضی رہنا سیکھ لیں۔اس ضمن میں ایک اہم بات یہ بتانی چاہتا ہوں کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وقف کی ایک تحریک کے ساتھ یہ بھی تحریک فرمائی کہ امیر گھروں کے بچوں کے لئے گھر کے باقی افراد کو یہ قربانی کرنی چاہئے کہ اس کے وقف کی وجہ سے اس کے لئے خصوصیت کے ساتھ کچھ مالی مراعات مہیا کریں اور یہ سمجھیں کہ جتنا مالی لحاظ سے اس کو بے نیاز بنائیں گے اتنا بہتر رنگ میں وہ قومی ذمہ داریوں کی امانت کا حق ادا کر سکے گا۔اس نصیحت کا اطلاق صرف امیر گھرانوں پر نہیں بلکہ غریب گھرانوں پر بھی ہوتا ہے۔ہر واقف زندگی گھر کو یعنی ہر گھر کو جس میں کوئی واقف زندگی ہے آج ہی یہ فیصلہ کر لینا چاہئے کہ خدا ہمیں جس معیار پر رکھے گا ہم اپنے واقف زندگی تعلق والے کو اس سے کم معیار پر نہیں رہنے دیں گے یعنی جماعت سے مطالبے کی بجائے بھائی اور بہنیں اور ماں باپ اگر زندہ ہوں اور توفیق رکھتے ہوں یا دیگر قریبی مل کر ایسا نظام بنائیں گے کہ واقف زندگی بچہ اپنے زندگی کے معیار میں اپنے گھر والوں کے ماحول اور ان کے معیار سے کم تر نہ رہے۔